جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی حد سے گزر گئے،اہم ملک میں کون سا شرمناک کاروبار شروع کردیا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

بنوم بنہ(آئی این پی)امریکا کی ایک کاروباری کمپنی نے جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا کی بچوں کو دودھ پلانے والی غریب خواتین سے ان کا دودھ خرید کر اسے امریکی مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کردیا،دوسری جانب کمبوڈیا کی حکومت نے اس انوکھے کاروبار کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پر فوری طور پر پابندی لگانے کا حکم دیدیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی ایک کاروباری کمپنی نے جنوب مشرقی ایشیائی ملک

کمبوڈیا کی بچوں کو دودھ پلانے والی غریب خواتین سے ان کا دودھ خرید کر اسے امریکی مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کیا ہے۔ دوسری جانب کمبوڈیا کی حکومت نے اس انوکھے کاروبار کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پر فوری طور پر پابندی لگانے کا حکم دیا ہے۔امریکا کی ایک کاروباری فرمامبروزیا لابز نے گذشتہ چند ہفتوں سے کمبوڈیا کی غریب ماں سے ان کا دودھ خریدنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ یہ کمپنی ماں کے دودھ کو فریز کرنے کے بعد اسے فی 147 ملی لیٹر کو 20 ڈالر کیعوض امریکا میں فروخت کررہی تھی۔کمبوڈین وزیراعظم کی طرف سے جاری کردہ ایک مکتوب میں ماں کے دودھ کی خریدو فروخت اور اس کی برآمد روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کا حکم دیا گیا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کمبوڈیا ایک غریب ملک ہے اور ہمیں معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ مائیں اپنا دودھ بیچنے پر مجبور ہوجائیں۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کمبوڈین کسٹم حکام نے ماں کا دودھ بیرون ملک سے باہر بھیجنے کا عمل حکومتی فیصلے تک ملتوی کردیا تھا۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارییونیسیف نے غریب خواتین سے ان کا دودھ خریدنے کو انہیں بلیک میل کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس مکروہ دہندے کی شدید مذمت کی ہے۔ دارہ برائے اطفال کی طرف سے کمبوڈین حکومت کے تازہ فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

یونیسیف کے مطابق کمبوڈیا میں پیدائشی بچوں کی شرح اموات خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔ اس کی ایک وجہ نومولود بچوں اور ان کی ماں کو مناسب خوراک نہ ملنا بھی ہے۔ کمبوڈیا میں ایک ہزار بچوں میں سے 97 بچے خوراک کی قلت کے باعث وفات پا جاتے ہیں۔کمبوڈیا کے 45 فی صد بچوں پر خوراک کی قلت کے واضح آثار موجود ہیں۔ ان کی نشونما سست پڑ جاتی ہے اور وہ غیرمعمولی جسمانی کمزوری کا شکار رہتے ہیں۔ایم مقامی غیر سرکاری تنظیم جنڈ اینڈ ڈویلپمنٹ فار کمبوڈیا کی خاتون ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنی معاشی مشکلات دور کرنے کے لیے رضاکارانہ طور اپنا دودھ فروخت کرے تو اسے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔کمبوڈیا کا شمار ایشیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں شہریوں کی سالانہ اوسط آمد 1160 ڈالر ہے۔ کمبوڈین شہریوں کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…