جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

اقوام متحدہ اجلاس، پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر آمنے سامنے،پاکستانی رہنماکے ایسے سوالات کہ بھارتی سفیرنے بھاگنے میں عافیت سمجھی

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک( آن لائن )اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔اجلاس میں پاکستان نے ایک بار پھر یہ مطالبہ دہرایا کہ اقوام متحدہ حقائق جاننے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے جبکہ بھارت نے ایک بار پھر سرحد پر سے ہونے والی دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔

اقوام متحدہ کے کونسل برائے انسانی حقوق کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں موجود وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ‘بھارت کا یہ کہنا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مخدوش صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، واقعتاً درست نہیں۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کونسل کی فوری توجہ کی متقاضی ہے اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے ایک ٹیم کو علاقے کا دورہ کرنا چاہیے۔زاہد حامد نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دی۔انہوں نے بتایا کہ ‘مقبوضہ کشمیر میں موجود 7 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے جموں و کشمیر کو رنج و غم کی وادی میں تبدیل کردیا ہے۔بعد ازاں اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر اجیت کمار نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں شورش کی وجہ ‘سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ہے۔بھارتی سفیر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو دوسروں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرنے کے بجائے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

بھارتی سفیر نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے زور دے جبکہ انہوں نے کشمیر کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے آنے والے بیان اور مسئلہ کشمیر میں تنظیم کی مداخلت پر بھی مذمت کی اوراس کے بعد بھارتی سفیر انسانی حقوق کے اجلاس سے اٹھ کرچلے گئے ۔پاکستانی نمائندے نے موقف اپنایا کہ بھارت اپنی فوج کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کرتا ہے، بھارتی فورسز کشمیریوں پر پیلیٹ گنز سمیت دیگر طریقوں سے ظلم ڈھارہی ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری بینائی سے محروم بھی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بھی اضافہ کیا اور صرف 2016 میں اس نے 300 سے زائد بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔پاکستانی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے جبکہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی کئی قرار دادیں بھی موجود ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…