اسلام آباد (نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دو موبائل فون مبینہ طور پر شہباز گل نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،
جبکہ انہیں استعمال کے لیے ایک ایسا موبائل فون فراہم کیا گیا تھا جس کے بارے میں جاسوسی کے خدشات ظاہر کیے گئے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کو اس معاملے کی اطلاع ملی تو شہباز گل کو زمان پارک میں روک لیا گیا، جبکہ بعد ازاں انہیں پارٹی کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بیان سامنے آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا صارفین نے متضاد ردِعمل کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے شفیع جان کے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان دعوؤں میں حقیقت ہے تو اس کے شواہد بھی سامنے لائے جائیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے شفیع جان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف اس نوعیت کے بیانات پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار عہدے پر موجود افراد کو محتاط انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔
کئی مبصرین نے یہ بھی رائے دی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جانے سے جماعت کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو رہے ہیں، جس پر سیاسی حلقوں میں بھی مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شفیع جان کے ان دعوؤں پر تاحال شہباز گل یا پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، لہٰذا ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔



















































