بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حملہ کسی بھی وقت ہوسکتاہے،داعش کے پاس کون سے خطرناک ترین ہتھیار ہیں؟برطانوی میڈیا کے انکشاف پر خوف و ہراس پھیل گیا

datetime 28  فروری‬‮  2017 |

لندن/بغداد(آئی این پی)برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں جاری لڑائی کے دوران شدت پسند گروپ داعش اپنے مراکز سے بتدریج محروم ہو رہی ہے۔برطانوی جریدے ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں داعش اور عراقی فوج کے درمیان مغربی موصل میں لڑائی شدت اختیار کر سکتی ہے۔ داعشی جنگجو آخری مرحلے میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں اور مہلک گیس کے ذریعے بھی حملے کرسکتے ہیں۔ کیونکہ وہ مہلک گیسوں اور جنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون طیاروں سے لیس ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مغربی موصل میں جاری لڑائی کے دوران چند روز میں داعش اپنے کئی اہم ٹھکانوں سے محروم ہو چکی ہے۔ داعشی جنگجوں کو پسپائی کے لیے سخت دبا کا سامنا ہے۔ عراقی فوج نے تازہ لڑائی کیدوران مغربی موصل میں داعش کے زیر استعمال دو اہم پلوں میں سے ایک پل کا کنٹرول سنھبال لیا جس کے بعد داعش کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوگیا ہے۔ٹائمز کی رپورٹ دفاعی ماہرین کے مطابق موصل میں اب بھی دو سے تین ہزار کے درمیان جنگ جو موجود ہیں۔ تازہ لڑائی میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے بھی سیکڑوں داعشی دہشت گردوں نے خودکشی کی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عراقی فوج کو پیش قدمی کے دوران بارود سے بھری کاریں بھی شہر میں ملی ہیں جنہیں دھماکوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بارود سے بھری ایک کار میں کلورین جیسی 1000 لیٹر زہریلی گیس موجود تھی۔ یہ گیس مغربی موصل کے ہوائی اڈے کے قریب ایک قصبے سے قبضے میں لی گئی۔رپورٹ کے مطابق داعشی جنگجو اپنے دفاع کے لیے آخری مرحلے میں خود کش ڈرون طیارے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ڈرون طیاروں کی مدد سے وہ حالیہ عرصے میں بم گرانے کے متعدد تجربات کر چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوں کے ڈرون طیاروں کی فضائی نگرانی یا انہیں فضا میں تباہ کرنے کا کوئی موثر انتظام نہ ہونے کے نتیجے میں داعش اس جنگی حربے کو کامیابی کے ساتھ استعمال کریں گے۔

اخباری رپورٹ کیمطابق حالیہ ایام میں داعش نے چھوٹے اورمعمولی درجے کے ڈرون طیاروں کا استعمال کیا۔ ان طیاروں سے گرائے گئے باردوی مواد سے جانی نقصان کم ہوتا ہے۔ ایک ڈرون حملے میں ایک شخص کے مارے جانے کا خطرہ ہے مگر ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ داعشی جنگجوں کے پاس بڑے گولے اور میزائل داغنے کے لیے بھی جدید صلاحیت کے حامل ڈرون ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…