ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں ریاستوں کی غیراعلانیہ جنگ،افغان صدرنے بڑی پیشکش کردی

datetime 19  فروری‬‮  2017 |

میونخ(آئی این پی )افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے،دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا،افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ ریاستوں کے مابین غیر

اعلانیہ جنگ ہے،ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔اتور کو جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کے امور پر ہونے والی اہم کانفرنس میں افغان صدر نے خطاب کیا اور اپنے خطاب کے اہم نکات پر مشتمل ٹویٹس بھی کیں۔افغان صدر نے کہاکہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے تاکہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کی جاسکے ۔دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا۔،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا۔انھوں نے کہاکہ دہشت گردی ہمارے عہد کا واضح چیلنج ہے۔ اس چیلنج پر فتح پانے کے لیے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم و ہمت درکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں آرڈر(یعنی نظم و ضبط) کو نئے سرے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سود مند، پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔انھوں نے پاکستان اور افغانستان سرحد پر حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا اور جب تک یہ تفریق اور تقسیم رہے گی ہم ہارتے رہیں گے۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں۔ یہ منشیات کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ‘ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…