پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

امریکی قانون ڈونلڈ ٹرمپ کے آگےبے بس ہو گیا ، ٹرمپ کا بڑ ااعلان

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات مسلم ممالک کے خلاف عائد پابندیوں کو معطل کرنے والے ججوں کو ایک بار پھر نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا قانونی نظام ٹوٹ چکا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی ایک ٹویٹ میں انھوں نے ایک اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے پابندیوں کے اعلان کے بعد ملک میں آنے والے پناہ گزینوں میں سے 70 فیصد کا تعلق انہی مشتبہ ممالک سے ہے۔انہوں نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے کہا کہ پیر یا منگل تک ’بالکل نیا‘ حکم جاری کیا جا سکتا ۔یہ بات انھوں نے ان کے پہلے حکم نامے کو معطل قرار دینے وال جج کی جانب سے حکم نامے کی معطلی پر دوبارہ غور کی تجویز کے بعد کہی ۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہت ہی معمولی‘ تبدیلی ہو گی۔ تاہم انھوں نے تفصیل سے کچھ نہیں بتایا۔ٹرمپ نے صحافیوں سے کہاکہ ہم یہ جنگ جیت جائیںگے۔ بدقسمتی سے اس میں وقت لگتا ہے لیکن ہمارے پاس کئی دوسرے اختیارات بھی ہیں۔ اس میں بالکل نیا حکم بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس

کے تحت عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے امریکہ آنے والوں کے ویزے 90 روز تک معطل کر دیے گئے تھے۔اس کے علاوہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ادھر صدرٹرمپ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ نئے حکمنامے میں عراق کو استثنی دیا جاسکتا ہے جبکہ باقی تمام چھ ممالک پر پابندی برقراررہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…