پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ انتہائی شرمناک سلوک،4پاکستانیوں کو ملک بدری کا سامنا

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی) برطانیہ نے کم عمر لڑکیوں کو نشے کا عادی بنا کر ان کے ساتھ زیادتی میں ملوث گینگ کے 4 پاکستانیوں کو ملک بدری کا سامنا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ نے راچ ڈیل کے علاقے میں کم عمر لڑکیوں کو نشے کا عادی بنانے کے بعد ان کے ساتھ زیادتی کرنے

والے 4 پاکستانیوں کو مقدمہ ہارنے کے بعد ملک بدری کا سامنا ہے جب کہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ان پاکستانیوں کی برطانوی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ان سے غیر اخلاقی سرگرمیاں کروانے والے جنسی درندوں میں شبیر احمد، عادل خان، عبدالرف اور عبدالعزیز ملوث ہیں اور یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت بھی چاروں کے خلاف فیصلہ سنا چکی ہے۔ لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے گروہ کے سرغنہ شبیر احمد کو 2012 میں زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر 22 برس قید کی سزا سنائی تھی جب کہ باقی تینوں افراد ضمانت پر رہا ہو گئے تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ چاروں افراد کو کب پاکستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ راچ ڈیل سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ سمنز ڈانس زک نے چاروں مجرمان کو فوری طور پر پاکستان بدر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم برطانیہ آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں تاکہ وہ اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں لیکن اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ چاروں مجرمان انسانی حقوق کی آڑ میں ملک بدری سے نہیں بچ سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…