اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ڈنمارک کی خاتون کی انسان دوستی، قریب المرگ بچے کی زندگی بدل ڈالی

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک سال پیشتر سوشل میڈیا اور اخبارات و جرائد میں بھوک سے نڈھال اورقریب المرگ ایک سیاہ فام افریقی بچے کی تصویر کو اس وقت غیرمعمولی پذیرائی ملی تھی جب بے سہارا بچے کو ڈنمارک کی ایک خاتون امدادی کارکن کو پانی پلاتے دیکھا گیا گیا تھا۔

ذرائع ابلاغ شاید اس کہانی کو بھول گئے مگر آج یہ قصہ ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ وہ یہ کہ اس ڈینش امدادی کارکن نے بچے کو موت کے منہ میں جانے سے بچاتے ہوئے اس کی زندگی بدل ڈالی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سڑکوں اور گلیوں میں بھوکا اور ننگا پھرنے والے اس ننھے منھے بچے کے بارے میں اس کے والدین کا خیال تھا کہ وہ جادو کا شکار ہے۔ انہوں نے بچے کی کفالت کی ذمہ داری بھی چھوڑ دی تھی۔ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی خاتون امدادی کارکن ’آنیا رنگرنگ لفین‘ نائیجیرین بچے کے لیے مسیحا بن کر وہاں پہنچیں اور انہوں نے اس بچے کو سڑکوں پر بھوک سے نڈھال دیکھا تو اس نے اسے کھانا پانی دیا اور اپنی کفالت میں لینے کے ساتھ اس کے علاج سمیت ہرطرح کی ضرورت پوری کرنے کی مہم شروع کی۔ آنیا کی انسانی ہمدردی کے جذبے کو اس وقت اور بھی سہارا ملا جب بھوک سے نڈھال بچے کے لیے اسے لوگوں نے ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقم کے عطیات دے ڈالے۔ڈینش امدادی کارکن نے بچے کو اسپتال منتقل کیا جہاں اس کے معدے اور پیشاب کی شریانوں کا علاج کرایا گیا۔ خوراک اور توجہ نہ ملنے کے نتیجے میں بچہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا اور اسے مسلسل خون کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اسے روزانہ کی بنیاد پر خون دینے کا عمل شروع کیا گیا۔ آج وہی بچہ خوش وخرم، صحت مند اور اسکول جانے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ آنیا نے افریقی بچوں کی تعلیم اور بہبود کے لیے ایک امدادی تنظیم قائم کررکھی ہے۔ اس نے حال ہی میں نائیجیریا کے اس بچےکی تصاویر اپنے فیس بک صفحے پر پوسٹ کیں۔ اس نے لکھا کہ میں نے 30 جنوری 2016ء کو افریقا کے دورے کے دوران یہ بچہ سڑکوں پر دیکھا۔ ان کے شوہر ڈیوڈ ایمانویل اور نائجیریا کی ٹیم ان کے ہمراہ تھی۔
7ae7e0cd-c04b-4981-a1f3-262b9e55efed_4x3_690x515
ایک سال قبل بچے کی تصویر اور آج کی تصویر میں واضح فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ آج بچہ اسکول جانے کے لیے تیار ہے۔ آنیا نے بچے کا نام ’امید نو‘ رکھا ہے، آنیا کا کہنا ہے کہ اس کی زیرکفالت بچہ اب اسکول جائے گا۔ بچے کو اسکول کے یونیفارم میں اسکول بیگ اٹھائے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

33414b7a-2976-4652-b53f-27d7c7d6adfc_4x3_690x515

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…