اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

حیرت انگیز عدالتی فیصلہ، سنگاپور میں سعودی سفارتکار کو کوڑے مارنے کا حکم

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سنگا پور میں ہوٹل کی ملازمہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر سعودی سفارتکار کو کوڑے مارے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق بیرونی ممالک میں کسی بھی دوسرے ملک کے سفیر کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے لیکن سنگا پور نے سعودی عرب کے سفیر کو اس کے جرم کی سزا دے کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

39سالہ سعودی سفارت کار بندر یحییٰ الظہرانی بیجنگ میں تعینات تھے۔ 2016ء میں وہ سنگا پور گئے جہاں انہوں نے ہوٹل کی ایک ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا جس پر انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔الظہرانی نے عدالت میں اپنا جرم قبول کر لیا تھا جس پر گزشتہ روز انہیں 4کوڑے مارنے اور 26ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق الظہرانی اگست 2016ء میں چھٹیاں منانے سنگاپور گئے جہاں ہوٹل کی 20سالہ سنگاپور کی رہائشی ملازمہ کو انہوں نے کمرے میں بلایا۔ کمرے میں آنے پر روایتی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے ملازمہ نے سفارت کار سے مسکرا کر بات کی اور حال احوال پوچھا جس پر سفارت کار نے اسے دبوچ کر بوس و کنار شروع کر دیا۔ اس پر ملازمہ نے مزاحمت کی اور الظہرانی کے چنگل سے نکل کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ الظہرانی نے یکم فروری کو ہونے والی سماعت میں اپنا جرم قبول کر لیا تھا جس پر گزشتہ روز عدالت کی طرف سے انہیں کوڑوں اور قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اس حوالے سے سعودی سفارتکار الظہرانی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…