بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

فوجی بیرکیں خالی، طالبان نے قبضہ کر لیا،افغانستان دفاعی مسائل سے دوچار ہو گیا

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث نہ صرف معاشرتی بلکہ سیاسی و اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے، افغان حکومت کے سامنے جہاں کئی مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں وہاں جنگ میں گھرے اس ملک کو سب سے بڑا مسئلہ دفاعی نقطہ نظر سے درپیش ہے، اندرونی خلفشار اور سیاسی انحطاط کے باعث طالبان روز بروز طاقت پکڑتے جارہے ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان ملک کے 32فیصد علاقے میں قابض ہو چکے ہیں اور افغان حکومت کی عملداری ملک کے ان حصوں سے ختم ہو چکی۔ اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے والی چوں چوں کا مربہ افغان حکومت کو فوجیوں کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے۔اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو برس میں 12ہزار افغان فوجی طالبان کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 30ہزار زخمی ہیں جبکہ 12ہزار جنگ میں مستقل معذوری کا شکار ہو کر گھر بیٹھ چکے ہیں۔پرکش مراعات اور بھاری تنخواہوں کے باوجود افغان نوجوان فوج میں بھرتی ہونے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی افغان حکومت اپنی ناکامیوں اور طالبان کے بڑھتے ہوئے قدموں کا ملبہ آئے روز پاکستان پہ ڈال دیتی ہے جبکہ بیرونی امداد میں کرپشن اور اندرونی مسائل سے نظریں چراتے اور آئندہ حالات کے ادراک سے بے بہرہ افغان حکام اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔امپورٹ کئے گئے افغان صدر اشرف غنی اور پنج شیری شمالی اتحادکے نمائندہ اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات نے دونوں کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل کر رکھی ہے

جس سے نہ صرف افغان عوام آئے روز نت نئے انتظامی مسائل کا شکار نظر آتے ہیں بلکہ سب سے بڑے مسئلے طالبان نے بھی دوبارہ سے اپنے پر پھیلانے شروع کر دئیے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستانی سرحد کے قریب بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے سرگرمیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سرحدی صوبہ بلوچستان اور وفاقی عملداری کے علاقے فاٹا  کے ذریعے ملک کے دیگر علاقوں میں دہشتگرد کارروائیوں میں افغان خفیہ ایجنسیوں کی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی امداد نے بھی افغانستان کے پڑوسی ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…