اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

فوجی بیرکیں خالی، طالبان نے قبضہ کر لیا،افغانستان دفاعی مسائل سے دوچار ہو گیا

datetime 3  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث نہ صرف معاشرتی بلکہ سیاسی و اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے، افغان حکومت کے سامنے جہاں کئی مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں وہاں جنگ میں گھرے اس ملک کو سب سے بڑا مسئلہ دفاعی نقطہ نظر سے درپیش ہے، اندرونی خلفشار اور سیاسی انحطاط کے باعث طالبان روز بروز طاقت پکڑتے جارہے ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان ملک کے 32فیصد علاقے میں قابض ہو چکے ہیں اور افغان حکومت کی عملداری ملک کے ان حصوں سے ختم ہو چکی۔ اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے والی چوں چوں کا مربہ افغان حکومت کو فوجیوں کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے۔اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو برس میں 12ہزار افغان فوجی طالبان کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 30ہزار زخمی ہیں جبکہ 12ہزار جنگ میں مستقل معذوری کا شکار ہو کر گھر بیٹھ چکے ہیں۔پرکش مراعات اور بھاری تنخواہوں کے باوجود افغان نوجوان فوج میں بھرتی ہونے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی افغان حکومت اپنی ناکامیوں اور طالبان کے بڑھتے ہوئے قدموں کا ملبہ آئے روز پاکستان پہ ڈال دیتی ہے جبکہ بیرونی امداد میں کرپشن اور اندرونی مسائل سے نظریں چراتے اور آئندہ حالات کے ادراک سے بے بہرہ افغان حکام اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔امپورٹ کئے گئے افغان صدر اشرف غنی اور پنج شیری شمالی اتحادکے نمائندہ اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات نے دونوں کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل کر رکھی ہے

جس سے نہ صرف افغان عوام آئے روز نت نئے انتظامی مسائل کا شکار نظر آتے ہیں بلکہ سب سے بڑے مسئلے طالبان نے بھی دوبارہ سے اپنے پر پھیلانے شروع کر دئیے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستانی سرحد کے قریب بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے سرگرمیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سرحدی صوبہ بلوچستان اور وفاقی عملداری کے علاقے فاٹا  کے ذریعے ملک کے دیگر علاقوں میں دہشتگرد کارروائیوں میں افغان خفیہ ایجنسیوں کی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی امداد نے بھی افغانستان کے پڑوسی ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…