ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

وفات کے 20 سال بعد لیڈی ڈیانا کے بیٹوں نے ماں کے بارے میں اہم اعلان کردیا

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی)برطانوی شہزدی لیڈی ڈیانا کی وفات کے 20 سال بعد ان کے بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری نے اپنی والدہ کی یاد میں مجسمہ بنانے کا حکم دیدیا،دونوں شہزادوں کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ان کی والدہ کے مثبت کردار کو پہچانا جائے۔برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری نے اپنی والدہ کی یاد میں مجسمہ بنانے کا حکم دیا ہے

۔مجسمہ لیڈی ڈیانا کی سابقہ رہائش گاہ کنزنگٹن محل میں تعمیر کیا جائے گا۔اس کام کے لیے ابھی مجسمہ ساز کا انتخاب نہیں کیا گیا تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری والدہ کی وفات کو 20 سال گزر گئے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ میں اور دنیا بھر میں ان کے مثبت اثر کو ایک ہمیشہ رہنے والے مجسمے سے پہنچایا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے ہماری والدہ نے اتنی زندگیوں کو بہتر بنایا تھا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کو ان کی زندگی اور ان کی میراث جانچنے کا موقع ملے گا۔شہزادی ڈیانا کی وفات پر دنیا بھر میں شدید غم کی لہر دوڑ گئی تھی اور ان کی آخری رسومات ٹی وی پر دو ارب ناظرین نے دیکھی تھیں۔ادھر ملکہ برطانیہ نے بھی اس پروجیکٹ کی حمایت کے بارے میں بیان دیا ہے۔حال ہی میں شہزادہ ولیم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کی وجہ سے ان میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا تھا۔یاد رہے کہ 1997 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شہزادی ڈیانا اور ان کے ساتھی دودی الفائد ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔شہزادی ڈیانا کی وفات پر دنیا بھر میں شدید غم کی لہر دوڑ گئی تھی اور ان کی آخری رسومات ٹی وی پر دو ارب ناظرین نے دیکھی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…