اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان اورچین کی مخالفت کی پرواہ نہ کریں ،یہ کام ہم کرہی دیں گے،امریکہ نے بھارت کو بڑی یقین دہانی کرادی

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آ ئی این پی ) امریکہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جوہری کلب میں بھارتی رکنیت کی رکاوٹیں دور کرے گی ، بھارتی رکنیت کیکیلئے امریکہ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔بھارت میں امریکہ کے سفیر رچرڈ ورما نے ایک تقریب میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اس بارے میں چین کی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا صدر براک اوباما، وزیر خارجہ جان کیری اور دیگر بہت سے لوگوں نے این ایس جی میں بھارت کی رکنیت کے سلسلے میں بہت کوششیں کی ہیں اور امریکہ اس بارے میں اپنی کوشش جاری رکھے گا۔رچرڈ ورما نے کہا کہ یہ ساری چیزیں پیچیدہ ہیں۔ وہ کثیر ملکی گروپ ہے۔ ان کو اس میں وقت لگے گا۔ ہم چین سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ کام کریں گے۔ ممکن ہے کہ چین کے کچھ تحفظات ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ بالآخر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔رچرڈ ورما نے جو کہ 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، کہا کہ امریکہ این ایس جی اور دیگر بین الاقوامی اداروں بشمول سلامتی کونسل میں بھارت کی رکنیت کی سختی سے حمایت کرتا رہا ہے۔ یہ تمام باتیں اوباما انتظامیہ کے لیے بہت اہم رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ حکومت بھی ترجیحی بنیاد پر ان کو جاری رکھے گی۔48

رکنی این ایس جی کے اکثریتی ارکان کی حمایت کے باوجود چین بھارت کی رکنیت کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے وہ اس کلب کا رکن بننے کا مجاز نہیں ہے۔ بھارت کے بعد پاکستان نے بھی این ایس جی کی رکنیت کے لیے درخواست دی ہے۔چین نیعالمی اقتصادی فورم میں کہا ہے کہ این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے والے ملکوں کی این ایس جی کلب میں شمولیت الوداعی تحفہ نہیں ہو سکتی کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو پیش کریں۔ اس کا یہ رد عمل اوباما انتظامیہ کے اس بیان کے بعد آیا کہ این ایس جی کلب میں بھارت کی شمولیت کی کوشش کے حوالے سے چین ایک غیر ملک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…