کابل(آئی این پی)افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی پاکستان اور افغانستان کے امن واستحکام کیلئے بڑاخطرہ ہے ،دونوں ممالک کو دہشتگردی اورانتہا پسندی کے ناسور کے خلاف مل کر لڑنا چاہیے تاکہ خطے میں امن واستحکام کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے ۔
اتوار کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز انھیں ٹیلی فون کیا جس میں انکا کہنا تھاکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی افغانستان اور پاکستان دونوں کیلئے مشترکہ خطرہ ہیں،دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے افغانستان کی مکمل طور پر مدد جاری رکھیں گے ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ پاکستان افغانستان کو پرامن اور مستحکم دیکھناچاہتا ہے ۔ امید ہے کہ دونوں دوست ممالک امن کے قیام ،موجودہ چینلجز اور دونوں ممالک کو درپیش خطرات کامل کر مقابلہ کریں گئے ۔افغان چیف ایگزیکٹو کے دفترسے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عبداللہ عبداللہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاک فوج کا نیا سربراہ بننے پر مبارکباد بھی دی اور کہاکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی پاکستان اور افغانستان کے امن واستحکام کیلئے بہت سنگین خطرہ ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے مزید کہاکہ افغانستان اور پاکستان کو دہشتگردی اورانتہا پسندی کے ناسور کے خلاف مل کر لڑنا چاہیے تاکہ خطے میں امن واستحکام کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو ٹیلی فون کیا تھا جس میں انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں امن خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے جب کہ خطے کے امن واستحکام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔



















































