اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان میں غیر معمولی منفی خطرات سے خبردار کردیا

datetime 11  مئی‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)طویل مدتی قرض پروگرام کے بارے میں حکومت کے ساتھ بات چیت سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستانی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث معیشت کو درپیش خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے سالانہ بجٹ سازی کا عمل شروع کرنے سے قبل ایک نئے پروگرام پر بات چیت کے لیے آئی ایم ایف کا ایک مشن ممکنہ طور پر رواں ماہ ملک کا دورہ کرے گا۔آئی ایم ایف نے اپنی اسٹاف رپورٹ میں کہا کہ نئی حکومت نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پالیسیز کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم پاکستانی میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے اور پاکستانی معیشت کے لیے منفی خطرات غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر پالیسیوں پر عمل نہیں کیا گیا اور سیاسی پیچیدگیاں بیرونی فنانسنگ، شرح تبادلہ پر دبائو ڈال سکتی ہیں۔آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ اجناس کی بلند قیمتیں اور شپنگ میں رکاوٹیں یا سخت عالمی مالیاتی حالات کی وجہ سے ملک کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔مالیاتی فنڈ نے قرض پروگرام کے بعد بیرونی ادائیگیوں کی بروقت ضرورت پر زور دیا۔گزشتہ ماہ پاکستان نے قلیل مدتی 3 ارب ڈالر کا پروگرام مکمل کیا تھا جس سے ڈیفالٹ کو روکنے میں مدد ملی، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک نئے طویل مدتی پروگرام کی ضرورت پر زور دیا۔

گزشتہ موسم گرما میں پاکستان باآسانی ڈیفالٹ میں جانے سے بچ گیا تھا اور آئی ایم ایف کے آخری پروگرام کی تکمیل کے بعد معیشت مستحکم ہو گئی تھی اور اپریل میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کے ریکارڈ سے کم ہو کر 17 فیصد پر آ گئی ہے تاہم ملک کو اب بھی مالیاتی خسارے کا سامنا ہے، اگرچہ درآمدی کنٹرول کے اقدامات نے بیرونی کھاتوں کے خسارے کو سنبھالنے میں مدد دی ہے لیکن ان کی وجہ سے ترقی کی رفتار بھی کم ہوئی ہے، گزشتہ سال منفی نمو کے مقابلے میں اس سال ترقی کی شرح تقریبا 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔توقع ہے پاکستان آئی ایم ایف سے کم از کم 6 ارب ڈالر حاصل کرے گا اور ریزیلئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ کے تحت اضافی فنانسنگ کی درخواست کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…