اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

گائے کے دودھ میں یہ ملا کر پیو تم ٹھیک ہو جائو گی ۔۔ حکیم کے مشورے کے بعد خاتون نےکیا چیز کھانی شروع کر دی ؟ حیران کن انکشاف

datetime 15  دسمبر‬‮  2016 |

بنارس(آئی این پی)بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع بنارس کی ایک خاتون کے ریت کھانے کا انکشاف ہوا ہے جو تقریبا ہر روز ایک کلو ریت کھاتی ہے لیکن صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔برطانوی میڈیا کے مطابق کسما وتی جب 15 برس کی تھیں تو ایک بار ان کے پیٹ میں درد ہوا تھا اور ایک طبیب نے انھیں گائے کے دودھ میں ریت ملا کر پینے کو کہا۔سما وتی کی پیٹ کی پریشانی تو ٹھیک ہو گئی لیکن ریت میں نہ جانے کیسا ذائقہ تھا کہ انھیں اس کی عادت پڑ گئی۔
بنارس کے چولاپور بلاک کے کٹاری گاؤ ں کی رہنے والی سماوتی 78 برس کی ہیں اور گذشتہ 63 برس سے ان کی یہ عادت جاری ہے۔سماوتی کی شادی ہوئی، پھر دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی لیکن ہر دن ریت کھانے کا ان کا سلسلہ جاری رہا۔اب ان کے پوتے پوتیاں بھی ہو چکی ہیں اور ان بچوں کی ذمہ داری اپنی دادی کے لیے ریت جمع کرنا ہے۔ کئی بار تو پڑوسی بھی انھیں ریت بطور عطیہ دے دیتے ہیں۔
سما وتی مکمل طور صحت مند ہیں۔ بہ تو وہ عینک پہنتی ہیں نہ ہی ان کی کمر جھکی ہے اور وہ روزانہ کھیتی باڑی بھی کرتی ہیں۔سما وتی کا کہنا ہے کہ دن بھر میں وہ ڈھائی سو گرام سے ایک کلو تک ریت کھا لیتی ہیں۔کھانے سے پہلے وہ ریت کو باقاعدہ دھوتی ہیں، دھوپ میں سھاتی ہیں اور کنکر پتھر بھی اس میں چنتی ہیں۔سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد اور نیند ٹوٹنے پر بھی انھیں کھانے کے لیے ریت چاہیے اور جس دن طلب کچھ زیادہ ہو جائے تو پورا دن ہی ریت پھانکنے میں گزر جاتا ہے۔انھوں نے ہمیں ایک قصہ بھی سنایا۔ ان کا کہنا تھا: ‘ایک بار پڑوس میں مکان بنانے کے لیے ریت آئی۔ مجھے آج تک ایسی میٹھی ریت پوری زندگی میں کھانے کو نہیں ملی۔ کچھ ہی دن میں میں نے دو تین بوریاں اس ریت کی کھا لیں۔ کسی کو پتہ نہیں چلا کیونکہ اس کے بدلے میں اپنے گھر میں رکھی ریت میں وہاں رکھ آتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…