پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مودی ملک سے فرار، افواہوں کا بازار گرم ،بھارت میں ہنگامہ برپاہوگیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی حکومت کی جانب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے باعث بینکوں میں لوگوں کا رش اور طویل قطاریں نہ ختم ہوسکیں، عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم جبکہ مودی جی ملک سے فرار ہیں ،سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم پر شدید تنقید اور دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے باعث ملک بھر کے بینکوں میں لوگوں کا رش اور طویل قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں۔یکایک بہت سے لوگوں کے پیشے بے معنی ہوگئے۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے

والا کوئی نہیں۔نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتہ کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگ گئیں حالانکہ ابھی بینک کھلنے میں دیر تھی۔ کئی لوگ تومنہ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار۔خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کی غریب عوام ہے جبکہ نریندر مودی اپنے

اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!۔سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔ایک دوسرے ٹوئٹر صارف اشوک کمار کے مطابق بینکوں میں قطار، کر کے پی ٹی ایم کا پرچار (تشہیر)، صاحب ہوئے فرار۔خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…