جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مودی ملک سے فرار، افواہوں کا بازار گرم ،بھارت میں ہنگامہ برپاہوگیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی حکومت کی جانب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے باعث بینکوں میں لوگوں کا رش اور طویل قطاریں نہ ختم ہوسکیں، عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم جبکہ مودی جی ملک سے فرار ہیں ،سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم پر شدید تنقید اور دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے باعث ملک بھر کے بینکوں میں لوگوں کا رش اور طویل قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں۔یکایک بہت سے لوگوں کے پیشے بے معنی ہوگئے۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے

والا کوئی نہیں۔نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتہ کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگ گئیں حالانکہ ابھی بینک کھلنے میں دیر تھی۔ کئی لوگ تومنہ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار۔خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کی غریب عوام ہے جبکہ نریندر مودی اپنے

اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!۔سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔ایک دوسرے ٹوئٹر صارف اشوک کمار کے مطابق بینکوں میں قطار، کر کے پی ٹی ایم کا پرچار (تشہیر)، صاحب ہوئے فرار۔خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…