پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی کوششیں رائیگاں ۔۔شربت گلہ کے ہمسایہ ملک پہنچتے ہی وارے نیارے

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کابل(آئی این پی)پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے والی افغان خاتون شربت گلہ30 سال بعد اپنے وطن واپس پہنچ گئی جہاں افغان صدر اشرف غنی نے اہلخانہ سے استقبالیہ ملاقات کی اور رہائش بھی دیدی۔افغان خبررساں ادارے’’ خامہ پریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صدراشرف غنی نے شربت گلہ سے ملاقات کے دوران رہائش کے لیے ایک مکان کی چابی بھی پیش کی اورجنگ سے متاثر افغانیوں کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کیا۔اشرف غنی نے اس موقع پر کہا کہ افغان قوم اس وقت غیرمکمل ہے کیونکہ کئی باشندے تاحال ملک سے باہر پناہ گزین ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور خلا کو پر کرنے کے لیے راستہ ہموار کررہی ہے۔شربت گلہ کی کفالت کے حوالے سے افغان صدر نے وعدہ کیا کہ حکومت شربت گلہ اور اس کے اہل خانہ کی رہائش سمیت تعلیم اور صحت کے معاملات کا خیال رکھے گی جبکہ انھوں نے متعلقہ حکام کو مدد کے احکامات جاری کردیے۔واضح رہے 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے

صفحہ اول پر شائع تصویر کے بعد مونا لیزا کے نام سے شہرت پانے والی شربت گلہ کو گزشتہ روز پاکستانی حکام کی جانب سے طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا تھا۔شربت گلہ، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر تھی جہاں ان پر غیر قانونی رہائش، جعلسازی، دھوکہ دہی، دستاویز میں چھیڑ چھاڑ اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) قوانین کی خلاف ورزی جیسے چھ الزامات پر عدالت میں جرم ثابت ہوگیا تھا۔انسداد بدعنوانی اور امیگریشن کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔وہ 1984 میں پشاور میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم ناصرباغ کیمپ میں منتقل ہوئی تھی جہاں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے انسانی بنیادوں اور افغانستان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے لیے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا تھا تاہم خود شربت گلہ نے پاکستان میں مزید قیام سے انکار کردیا تھا۔پاکستانی عدالت نے شربت گلہ کو غیر قانونی طریقے سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے جرم میں 15 روز قید کے علاوہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر خیل نے شربت گلہ کی کابل آمد کی تصدیق کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…