منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

چین نے روس اورامریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

بیجنگ(این این آئی)رواں برس چین نے خلائی ریس میں اپنی جگہ بنانے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو دوربین متعارف کرائی، خلائی اسٹیشن کی تیاری کے لیے ایک اسپیس لیب کو پیش کیا اور مریخ پر مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔اب اس کی نظریں کمرشل خلائی پروازوں پر مرکوز ہیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں دنیا کے سب سے بڑے ایک نئے خلائی طیارے کو تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو 20 مسافروں کے ساتھ روزانہ زمین کے مدار سے باہر سفر کرسکے گا۔چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی نے اس طیارے کو ڈیزائن کیا ہے اور اس خیال کو میکسیکو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کیا۔چین کا یہ خلائی طیارہ کسی راکٹ کی طرح عمودی ٹیک آف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا جبکہ آٹومیٹک لینڈنگ کرسکے گا۔اس کے دو ڈیزائن تیار کیے گئے ہیں، ایک ڈیزائن والے جہاز وزن کا دس ٹن اور اس کے پروں کا سائز 19.6 فٹ ہوگا جو پانچ افراد کو 62 میل کی بلندی پر لے کر جاسکیں گے جہاں سے خلاء کا آغاز ہوتا ہے اور وہاں مسافر دو منٹ کے بے وزنی کے تجربے کا لطف لے سکیں گے۔دوسرا ڈیزائن سو ٹن وزنی طیارے کا ہے جس میں بیس افراد 80 میل کی بلندی تک پرواز کرکے چار منٹ کے بے وزنی کے تجربے کا مزہ لے سکیں گے۔چین کو توقع ہے کہ آزمائشی پروازوں کا آغاز اگلے دو برسوں میں ہوجائے گا جبکہ اس پر سفر کرنے کیلئے دو سے ڈھائی لاکھ ڈالرز فی مسافر لیے جائینگے۔

چین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ(این ایس جی)میں بھارت کی شمولیت کے حوالے سے ممکنات پر غور کرنے کا خواہاں ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ رواں ہفتے برکس ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس دورے سے قبل چین کے نائب وزیر خارجہ لی با دونگ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ نئے رکن کی شمولیت کے لیے تمام ارکان کا متفق ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون چین نے نہیں بنائے، این ایس جی کی رکنیت کے معاملے پر چین اور بھارت کے درمیان خوشگوار رابطے رہے ہیں اور چین چاہتا ہے کہ اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت جاری رہے۔لی بادونگ نے کہا کہ چین بھارت کی رکنیت کے حوالے سے مشترکہ طور پر ممکنات کا جائزہ لینے کا خواہاں ہے تاہم یہ این ایس جی کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کے قوانین کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ بھارت میں روس ، امریکا اور فرانس کی شراکت سے اربوں ڈالر کے نیوکلیئر پاور پلانٹس تعمیر کیے جاسکیں اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آلودگی پھیلانے والے ذرائع پر انحصار کم کیا جاسکے۔اب تک بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی کیوں کہ 48 رکنی گروپ میں چین اس کی شمولیت کا مخالف ہے اور قانون کے مطابق این ایس جی میں کسی بھی نئے رکن کی شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ تمام ارکان اس پر متفق ہوں۔واضح رہے کہ جوہری عدم پھیلا کے معاہدے(این پی ٹی)کے تحت صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو جوہری طاقت کے حامل ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔این ایس جی میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے این پی ٹی پر دستخط کیا جائے تاہم بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلا کے حوالے سے اس کے ماضی کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی اجازت دینی چاہیے۔بھارت کو 2008 میں این ایس جی کی جانب سے رعایت دی گئی تھی جس کے تحت اسے نیوکلیئر کامرس میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی تاہم اسے ادارے کی فیصلہ سازی میں ووٹ کا حق نہیں دیا گیا تھا۔بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے حامی ممالک میں امریکا بھی شامل ہے اور انہیں امید ہے کہ جون میں سیؤل میں ہونے والے این ایس جی کے سالانہ اجلاس میں ناکامی کے باوجود مستقل میں کوئی ڈیل ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ ہندوستان کی این ایس جی رکنیت میں دلچسپی کے بعد پاکستان نے بھی اپنی رکنیت کے لیے لابنگ شروع کردی تھی اور اس حوالے سے مئی میں باضاطہ طور پر درخواست بھی جمع کروائی تھی۔تاہم جون میں ہونے والے این ایس جی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی رکنیت کی درخواست پر غور ہی نہیں کیا گیا۔چینی صدر اپنے دورہ ایشیا کے دوران بنگلہ دیش اور کمبوڈیا بھی جائیں گے۔یاد رہے کہ ابھرتے ہوئے ممالک کے گروپ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…