نئی دہلی /اسلام آباد( این این آئی)بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط کو طلب کر کے اوڑی میں فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے افراد کے سرحد پار سے تعلق کے ثبوت حوالے کئے ہیں جبکہ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے اڑی واقعے پر احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے واضح کہاکہ اس حملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ،پاکستان بحیثیت ایک ریاست اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن اور بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبی کے حوالے سے تفصیلات کا انتظار ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے منگل کو پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے یہ ثبوت ان کے حوالے کیے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی سرحد پار کرنے میں مدد کرنے والے دو گائیڈز جنہیں مقامی دیہاتیوں نے پکڑا تھا زیر حراست ہیں۔وکاس سواروپ کے مطابق فیصل حسین اعوان اور یاسین خورشید نامی ان دونوں افراد کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقوں سے ہے۔ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان گائیڈز سے کی گئی ابتدائی تحقیقات سے اوڑی میں حملہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت کا بھی علم ہوا ہے۔ان کا دعوی ہے کہ یہ شخص مظفر آباد کے علاقے دربھنگ کا رہائشی حافظ احمد تھا جبکہ محمد کبیر اعوان اور بشارت نامی افراد حملہ آوروں کے ہینڈلرز تھے۔ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف مسلسل دہشت گردی کی کارروائیاں قابل قبول نہیں ۔بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے اڑی واقعے پر احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اڑی حملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ۔پاکستان بحیثیت ایک ریاست اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن اور بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبی کے حوالے سے تفصیلات کا انتظار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی طلبی کے حوالے سے تفصیلات کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مظالم کے خلاف آواز اٹھانا بھارت کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں ۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ۔ بھارتی دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ترجمان نے سوال اٹھایا کہ اگر کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کیوں موجود ہے؟ بھارت کے اندرونی معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں کیوں موجود ہیں؟ ترجمان نے کہا کہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموشی جرم تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کیخلاف نیا بھارتی ڈرامہ شروع،مشکوک ثبوت سامنے لے آیا،حملے اورگرفتارمبینہ پاکستانیوں کی تفصیلات جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
حملے کا خدشہ، سعودی عرب میں ہائی الرٹ
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
12 ربیع الاول کی چھٹی سے متعلق اہم خبر آگئی
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)



















































