منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

تارکین وطن کایورپی ممالک سے دِل بھرگیا،بڑی تعداد نے واپسی کی راہ اختیارکرلی،عالمی تنظیم کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  ستمبر‬‮  2016 |

لندن(این این آئی)پناہ گزینوں کیلئے بین الاقوامی تنظیم نے اپنے ایک حالیہ جائزے میں کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں قیام پذیر رضاکارانہ طور پر اپنے ملکوں کو واپس جارہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریبا 51 ہزار پناہ گزین اپنے کیمپوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ زیادہ تر پناہ گزین یورپی ممالک سے واپسی کی راہ پکڑ رہے ہیں۔2016ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران یورپ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے سر فہرست رہاجبکہ سال کے آخر تک اپنے ممالک کو واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ ہونے کا امکان ہے۔واپس جانے والے پناہ گزینوں میں زیادہ تعداد البانیہ، عراق اور افغانستان کے باشندوں کی ہے ،سب سے زیادہ پناہ گزین جرمنی سے اپنے اپنے ملکوں کو لوٹے ہیں۔2015ء میں جرمنی پناہ گزینوں کا پناہ دینے کے حوالے سے سر فہرست رہا ،اس سال چار لاکھ بیالیس ہزار افراد مختلف ممالک سے جرمنی پہنچے اور انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی سے پناہ گزینوں کی واپسی کی بڑی وجہ ملک میں انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے بڑھتا ہوا سیاسی دباو ہے جس کے باعث جرمن حکومت رواں سال ستائیس ہزار پناہ گزینوں کو ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔سال 2015کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار افغان باشندے سیاسی پناہ کے لئے جرمنی پہنچے جن میں نصف تعداد خواتین تھی ، اب افغانستان میں جنگ کے باوجود ہزاروں افغانی واپس جارہے ہیں۔اگرچہ جرمن عوام کی جانب سے انہیں روکنے کی ترغیب بھی دی جارہی ہے اس کے باوجود پناہ گزینوں کی واپسی کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق گزشتہ برس افغانستان میں مختلف واقعات میں کم از کم گیارہ ہزار عام شہری ہلاک ہوگئے،یورپ پہنچنے والے افغان باشندے اسی صورتحال کو سیاسی پناہ کے لئے بنیاد بنا کر درخواست دیتے ہیں۔کچھ عراقیوں کے معاملے میں بھی ایسے ہی موقف سامنے آئے ہیں،جرمنی کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کے لئے بھی خصوصی اقدامات دیکھے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ یورپ اور دیگر ممالک پناہ کیلئے پہنچنے کی کوشش میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔کئی ہزار سمندر میں کشتیوں کو حادثات کے باعث ڈوب کر بھی موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…