ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کیساتھ یہ کام کرنا ناممکن ہے؟؟ بھارتی میڈیا نے بڑا اعتراف کر لیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی حکومت کے لئے دیرینہ خواہش کے باوجود سندھ طاس معاہدے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 19ستمبر 1960 میں طے پا جانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت چھ دریاؤں بیاس ، راوی ، ستلج ، مغربی دریائے سندھ ، چناب اور جہلم کے پانی کی تقسیم عمل میں لائی گئی اخبار کے مطابق 2010 میں جب بھارت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ کے 330 میگاواٹ منصوبے پر کام کا آغاز کیا تو پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی سے بھارت کو اپنی بھرپور سفارتکاری سے اس منصوبے پر کام سے روک دیا بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 56 برس گزرنے کے باوجود اس معاہدے پر عملدآمد بھارت کی مجبوری ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ 65 اور 71 کی جنگوں کے دوران بھی معاہدہ قائم رہا رپورٹ کے مطابق تقریباً ساڑھے چار کروڑ افراد براہ راست سندھ طاس منصوبے سے استفادہ کر رہے ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اگر جنگی حکمت عملی کے طور پر پانی کی تقسیم کے اس معائدے کو ختم کرے گا تو نہ صرف اس کی بھرپور عالمی مذمت کی جائے گی بلکہ پانی روکنے کی صورت میں خود بھارتی علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے ۔ علاوہ ازیں سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کی صورت میں بھارت کے دیگر ہمسایہ ممالک خصوصاً بنگلہ دیش بھی تشویش میں مبتلا ہوں گے جس کے ساتھ ہی بھارت پانی کے تقسیم کے معاہدے میں بندھا ہوا ہے لہذا بھارت اگر چاہے بھی تو اس کے لئے پاکستان کے ساتھ برسوں پرانے سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ واضح رہے بھارتی حکمران جماعت سے سندھ طاس منصوبے کو توڑنے کے منصوبے پر کوششیں کی جارہیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…