جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

امریکہ باز آجائے ورنہ۔۔ چین نے دوٹوک پیغام دیدیا

datetime 29  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین اور روس نے امریکہ کی طرف سے جنوبی کوریا میں دور تک مار کرنیوالے ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے یکطرفہ طورپر غیر تعمیری اقدامات سے عالمی اور علاقائی جنگی توازن ، سلامتی اور استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ،جنوبی کوریا میں امریکہ کی طرف سے جدید ترین دفاعی نظام کی تنصیب کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ عالمی اینٹی میزائل سکیم کا حصہ ہے ، واضح طورپر امریکی اور جنوبی کوریا کی حکومت کے دو عہدیداروں کے دعوؤں سے متصادم ہے‘ امریکہ اپنے ارادوں سے باز آجائے ورنہ اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ مارگولوف اور چین کے نائب وزیر خارجہ کانگ کوانگ یو نے شمال مشرقی ایشیاء سکیورٹی کے بارے میں چوتھے اجلاس میں کہی
۔انہوں نے دور مار کرنیوالے امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبو ط بنانے پر رضا مند ی ظاہر کی تا کہ علاقے میں ہونیوالی منفی سرگرمیوں کابہتر طورپر مقابلہ اور چین اور روس کی دفاعی سلامتی اور علاقے کے ممالک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ، چین اور روس اس بات پر بھی رضا مند ہو گئے ہیں کہ جامع حکمت عملی کی شراکت دار ی کے تحت رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس سلسلے میں اس مشترکہ اعلامیے کا حوالہ بھی دیا جس میں دونوں ملکوں کے مفادات کے تحفظ کا اعلان کیا گیا تھا ، دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کورین جزائر میں ایٹمی مسئلے کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی، اس کیلئے ضروری ہے کہ کورین جزائر میں ایٹمی اسلحے میں کمی ، فوجی اور سیاسی کشیدگی اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کا احساس کیا جائے اور وہاں فوجی مشقیں ختم کر کے باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے ، دونوں رہنماؤں نے جنوبی کوریا اور جمہوریہ کوریا پر زوردیا ہے کہ وہ آپس میں مذاکرات جاری رکھیں اور کورین جزائر کے مسئلے پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے مناسب ماحول پیدا کریں۔یا درہے کہ اس ماہ کے اوائل میں جنوبی کوریا اور امریکہ نے ایک معاہدے کے تحت جنوبی کوریا میں دور تک مار کرنیوالے ایٹمی میزائل نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…