پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

چین اور عالمی عدالت آمنے سامنے امریکہ نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 27  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے تنازعے پر فریقین کے خود مختار ی کے دعوؤں میں کسی کی طرف داری نہیں کرے گا ،و ا ئن ٹیائن میں ہونیوالے اجلا س میں ہر ایک نے مسلسل اس بات پر اظہار خیال کیا کہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے پر ماضی کے تصادم کو روکنے کے لئے کام کرنا چاہئے ، اس مسئلے پر قانونی بنیادوں نے سفارتی عمل کیلئے راہیں کھول دی ہیں ، اس لئے ہمیں اس مسئلے کے پرامن حل کیلئے کام کرنا چاہئے۔یہ بات امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری اور فلپائن کے سیکرٹری خارجہ پرفیکٹو یاسے نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔جان کیری نے کہا کہ امریکہ صبر و تحمل سے کام لینے کے لئے تمام دعویداروں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ واضح رہے کہ چین نے عالمی عدالت کے فیصلے کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا ہے اور اس ضمن میں پاکستان نے چین کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور چین واضح انداز میں دخل اندازی کرنے والوں کو سخت انتباہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف مذکورہ مسئلے پر فلپائن کے سیکرٹری خارجہ پرفیکٹو یا سے کا یہ کہنا کہ چین اور فلپائن کے درمیان تنازعہ صرف دو ممالک کے درمیان ہے ،فلپائن کی طرف سے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کے تنازعہ پر اس کے موقف میں تبدیلی پیداہورہی ہے ،جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے ، اب وقت آگیا ہے کہ فلپائن اپنے عمل اور کردار کا جائزہ لے اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں واضح طورپر طے کرے۔ فلپائن کے چوٹی کے سفارتکاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ چین سے بات چیت کے دوران ثالثی ٹریبونل کے فیصلے کا ذکر نہیں کر یں گے ،سفارتکاروں کی طرف سے ایسے بیانات کم حیران کن نہیں ہیں۔یہ بات چین کے ممتاز تجزیہ نگار لیو چانگ نے اپنے ایک مضمون میں کہی ہے۔لیو چانگ کا کہنا ہے کہ چین اور آسیان ممالک نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام ممالک اپنے علاقائی تنازعات براہ راست بات چیت کے ذریعے طے کریں اور یہی چین کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے ، لاؤس میں وزرائے خارجہ کے حالیہ ہونیوالے اجلاس میں بھی یہ بات کہی گئی ہے کہ کوئی بھی ایسی کوشش نہ کی جائے جو علاقائی اتحاد کیلئے نقصان دہ ہو یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…