پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

افغان صدر اشرف غنی کے الزامات،افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر نے تمام باتوں کادوٹوک جواب دیدیا

datetime 24  جولائی  2016 |

کابل( آئی این پی ) افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر سید ابرار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہا بلکہ ہم تو طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں افغانوں کو مکمل آزادی ہے، ملا اختر منصور کو پاسپورٹ کی فراہمی میں ریاست پاکستان کسی صورت ملوث نہیں تھی،افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار پاکستان ہے ، پاکستان کے خلاف بد گمانیوں کے باوجود افغانستان کو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہیں ۔ وہ اتوار کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار پاکستان ہے ۔ پاکستان کے خلاف بد گمانیوں کے باوجود افغانستان کو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہیں ۔ سید ابرار حسین نے کہا کہ جھگڑا افغانستان حکومت اور طالبان کا اپنا ہے پاکستان کا کردار صرف سہولت کار کا ہے ۔ پاکستان افغان طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہا بلکہ ہم تو طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغانوں کو مکمل آزادی ہے ۔ ملا اختر منصور کو پاسپورٹ کی فراہمی میں ریاست پاکستان کسی صورت ملوث نہیں تھی ۔ افغان حکومت بیک وقت طالبان سے مذاکرات اور ان کے خلاف کارروائی بھی چاہتی ہے جب کہ افغان حکومت کی طرف سے ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کے بظاہر کوئی ثبوت نہیں ملے ۔ سید ابرار حسین نے کہا کہ عمر منصور عرف نرے افغان فورسز نہیں بلکہ امریکی حملے میں مارا گیا۔افغان حکومت کے کہنے پر پاکستان نے کئی طالبان رہنما رہا کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار افغان صدر اشرف غنی کو جی ایچ کیو میں بریفنگ دی گئی ۔ طالبان رہنما ملا عمر کی وفات کی خبر پاکستان نے افشاء نہیں کی تھی ان کی وفات کی خبر بہت سی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو تھی ۔ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر سید ابرار حسین نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرکاری بیانات تعاون کی فضاء کو خراب کر رہے ہیں ۔ پاکستان افغانستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں لاکھوں ڈالرز خرچ کر رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…