اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

بھارتی ہندو قوم پرست تنظیم آرایس ایس کی دعوت،پاکستانی سفیرکے ردعمل نے انتہاپسند ہندوؤں کو آگ لگادی

datetime 3  جولائی  2016 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس نے ایک بین الاقوامی افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں کئی مسلم ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تاہم پاکستانی سفیر کی غیر موجودگی سے تقریب پھیکی رہی۔افطار پارٹی میں شامی سفیر نے بھی شرکت کی۔آر ایس ایس(راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کو مسلمانوں کے حوالے سے سخت مخالف نظریات اور پالیسی پر عمل پیرا تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ ’وشو ہند و پریشد‘ اور ’بجرنگ دل‘ جیسی درجنوں سخت گیر ہندو تنظیمیں اسی کی سرپرستی میں کام کررہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق افطار پارٹی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی عدم شرکت اصل موضوع گفتگو رہا۔ گوکہ انہیں بھی دعوت دی گئی تھی لیکن گزشتہ دنوں بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے شہر پامپور میں دہشت گردانہ حملہ کے حوالے سے ان کے ایک بیان پر منتظمین نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ پہلے خبرآئی کہ منچ نے ان کا دعوت نامہ منسوخ کردیا ہے تاہم بعد میں منچ کے ایک رہنما نے اس کی تردید کر دی۔منچ کے سرپرست اور آر ایس ایس کے سینئر کارکن اندریش کمار کا کہنا تھاکہ میں ذاتی طور پر تمام مسلم ملکوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کی مخالفت اور بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کریں ، کیوں کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کا نام بدنام ہوتا ہے۔القاعدہ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیمیں سماج کے لیے اچھی نہیں ہیں اور یہ اپنے مسلم بھائیوں کو ہی قتل کررہی ہیں۔مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر گریش جویال کا کہنا تھاکہ ان کی تنظیم نے ہندوؤں کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کو درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے اس افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے تاکہ ملک میں خیر سگالی اور دوستی کا ماحول پیدا ہوسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس افطار پارٹی کے انعقاد میں نہ تو کوئی سیاست ہے اور نہ ہی کسی طرح کی ڈپلومیسی بلکہ ا س کا مقصد عالمی بھائی چارے کو فروغ دینا اوراس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والے پرامن طور پر ایک ساتھ رہیں۔جویال نے دعوی کیا کہ ان کی تنظیم پچھلے چودہ برسوں سے ملک بھر میں مختلف اضلاع میں محلہ کی سطح پر افطار پارٹی کا انعقاد کررہی ہے اور اب تک نو ہزار تین سو 33 افطار پارٹیاں دی جا چکی ہیں۔شیو سینا نے ایک بیان میں کہاکہ آر ایس ایس کے ذریعہ افطار پارٹی کا مطلب یہ کہ تنظیم مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظریے سے بھٹک گئی ہے۔اس صورت حال کے مدنظر آر ایس ایس کے سینئر رہنما من موہن ویدیہ کو ٹوئٹ کرکے وضاحت کرنی پڑی کہ یہ افطار پارٹی آر ایس ایس کی نہیں بلکہ راشٹریہ مسلم منچ کی ہے۔ منچ ایک آزاد تنظیم ہے البتہ آر ایس ایس قومی امور پر اس کے خیالات کی تائید کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…