اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

نیوکلیئر سپلائرزگروپ میں بھارت کی شمولیت،امریکی انتظامیہ کے اہم عہدیدارنے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 26  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی) ایک سینئر امریکی قانون دان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے بھارت کی رکنیت کی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوا کہا ہے کہ اس فیصلے سے این ایس جی نے جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں کو دوام بخشا۔تاہم اوباما انتظامیہ میں شامل ایک سینئر عہدے دار نے بتایا ہے کہ اس سال کے آخر تک بھارت این ایس جی کا رکن بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے بتایاکہ بھارت کی درخواست منظور نہ کرکے این ایس جی نے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔این ایس جی کی گائیڈ لائنز کے مطابق رکن ملک کیلئے ضروری ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرے جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی نے اس پر دستخط نہیں کیے۔سینیٹر مارکی نے مزید کہا کہ این ایس جی کا قیام 1974 میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی تجربات کے ردعمل کے طور پر عمل میں آیا تھا، اور اس گروپ نے دہائیوں تک جوہری ٹیکنالوجی کو منتقل ہونے سے روکنے کیلئے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت این ایس جی کا رکن بن گیا تو وہ واحد رکن ہوگا جس نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے اور ایسا ہونے سے این پی ٹی کے حوالے سے این ایس جی کی ذمہ داریاں کمزور پڑ جائیں گی۔گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی برائے امریکا بھارت تعلقات کے اجلاس میں بھی مارکی نے خبردار کیا تھا کہ این پی ٹی پر دستخط کے بغیر بھارت کی این ایس جی میں شمولیت سے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجائے گی۔بھارت کی رکنیت کیلئے ماحول سازی کرنے پر اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کو رعایت دینے سے پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت میں اضافے کا جواز مل جائے گا۔این ایس جی کی جانب سے درخواست منظور ہونے کے بعد ایک سینئر امریکی عہدے دار نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ این ایس جی میں بھارت کی شمولیت کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے۔عہدے دار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے بھارت سال کے آخر تک گروپ کا حصہ بن جائے گا، اس کیلئے کچھ کام کرنا پڑے گا تاہم مجھے یقین ہے کہ سال کے آخر تک کوئی راہ نکل آئے گی۔امریکی عہدے دار نے سیؤل میں این ایس جی کے اجلاس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے اس معاملے پر ہندوستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور مہینوں کی مشاورت کے بعد بھارت کو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم میں شامل کرنے کا معاملہ بھی ترجیحات میں شامل کرلیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…