پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

قاتلانہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا نقصان ہو گیا

datetime 21  جون‬‮  2016 |

لندن/واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی شہر لاس ویگس میں جس شخص نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جلسے میں ایک پولیس اہلکار سے پستول چھیننے کی کوشش کی تھی انھوں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو قتل چاہتے تھے۔خیال ہے کہ 19 سالہ مائیکل سٹیون سٹینفرڈ برطانوی شہری ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وہ جب ریاست نیواڈا کی ایک عدالت میں جج کے سامنے پیش ہوئے تو انھوں نے کوئی صفائی پیش نہیں کی۔ اس کے بعد عدالت نے پانچ جولائی کو اگلی سماعت تک ان کا ریمانڈ دے دیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق وہ ہفتے کے روز ایک کیسینو میں منعقد ہونے والے رپبلکن پارٹی کی جانب سے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے جلسے میں گئے تھے۔ انھوں نے لاس ویگس کے ایک پولیس اہلکار سے کہا کہ وہ ٹرمپ سے آٹوگراف لینا چاہتے ہیں اور پھر ان کا پستول چھیننے کی کوشش کی۔
ان کے پاس برطانیہ کا ڈرائیونگ لائسنس تھا اور انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ پچھلے ایک سال سے ٹرمپ کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اب ان میں ہمت پیدا ہوئی کہ وہ یہ کام کر گزریں۔ایک فیڈرل جج نے قرار دیا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ سٹینفرڈ اگلی سماعت پر پیش نہ ہوں اس لیے ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا۔دستاویزات کے مطابق سٹینفرڈ نے کہا کہ انھوں نے اس سے قبل کبھی پستول نہیں چلایا لیکن 17 جون کو وہ ایک فائرنگ رینج گئے تاکہ اس کی مشق کر سکیں۔سٹینفرڈ نے تسلیم کیا کہ وہ ٹرمپ پر صرف ایک یا دو گولیاں ہی چلا پائیں گے جس کے بعد انھیں مار دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اگر وہ اس کوشش میں ناکام ہو جاتے تو فینکس میں ہونے والے ٹرمپ کے اگلے جلسے میں دوبارہ کوشش کرتے، جس کے لیے انھوں نے پہلے ہی سے ٹکٹ خرید رکھا تھا۔برطانوی دفترِ خارجہ نے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم لاس ویگس میں گرفتار ہونے والے ایک برطانوی شہری کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ادھر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والے کوری لیونڈوسکی نے استعفیٰ دے دیا۔ ٹرمپ کی مہم کی ترجمان کا کہنا تھا کہ کوری اب ٹرمپ کی مہم کے ساتھ کام نہیں کر رہے اور ٹرمپ کی پوری ٹیم ان کی محنت کے لیے شکر گزار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…