واشنگٹن(نیوزڈیسک) جنوبی امریکہ میں وائٹ گولڈ کی تلاش کا کام شروع کردیاگیا،دی اکونومسٹ جریدے کے مطابق پچھلے سال نومبر اور دسمبر میں لیتھیئم کی چین کو درآمدات دگنی ہو کر 13 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ لیتھیئم میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرمایہ کار بینک گولڈ مین سیش نے اس کو ’نئی گیس‘ قرار دیا۔الائیڈ مارکیٹ ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 تک لیتھیئم سے بنی گاڑیوں کی بیٹریوں کی طلب 46 ہزار ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ لیتھیئم کی کان کنی کرنے والوں کے اچھے دنوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ کاروباری شخصیت ایلوں مسک نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ الیکٹرک گاڑی ٹیسلا کی پروڈکشن بڑھا رہے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں افراد نے ٹیسلا کے نئے ماڈل 3 کی ایڈوانس میں بکنگ کرائی ہے اور مسک امریکہ کے نواڈا صحرا میں ان گاڑیوں کی بیٹریوں کی تیاری کے لیے بہت بڑی فیکٹری لگا رہے ہیں۔ایلون مسک نے میڈیا کو بتایا ’ان گاڑیوں کے لیے سالانہ پانچ لاکھ بیٹریاں تیار کرنے کے لیے ہمیں دنیا بھر میں نکالی جانے والی لیتھیئم کی ضرورت ہو گی۔‘ یہ صرف ایک الیکٹرک کار بنانے والے کا کہنا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹرز اور دیگر مصنوعات کی بیٹریاں تیار کرنے والوں کو کتنی لیتھیئم کی ضرورت ہوتی ہے۔لاطینی امریکہ میں اس صورتحال پر نظر رکھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ تین ممالک لیتھیئم کے ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ میں واقع ہیں جہاں یہ دھات بڑی پیمانے میں پائی جاتی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ارجنٹینا، بولیویا اور چلی میں دنیا میں پائی جانے والی لیتھیئم کے 60 فیصد ذخائر موجود ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ فوربز میگزین نے چند سال قبل اس علاقے کو ’لیتھیئم کا سعودی عرب‘ قرار دیا تھا۔ بولیویا میں بڑے پیمانے پر معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بولیویا کی لیتھیئم میں میگنیشیئم بڑی مقدار میں ملا ہوا ہے اور اس کو علیحدہ کرنا بڑا مہنگا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ بولیویا میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ بولیویا کے صدر نے ملٹی نیشنل کمپنیوں پر شرائط عائد کی ہیں جس کے تحت اس صنعت پر بولیویا کا کافی کنٹرول رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کان کنی کی اس تاریخ کو نہیں دہرائیں گے جس میں غیر ملکی اس ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں اور مقامی آبادی کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے۔دوسری جانب ارجنٹینا اور چلی میں کئی نجی کمپنیوں نے لیتھیئم نکالنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن کئی کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو بیٹریاں تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے جس سے زیادہ فائدہ ہوگا نہ کہ صرف دھات کو نکالنے میں۔ چلی سے دنیا میں ہونے والی اس دھات کی کان کنی کا 33 فیصد نکالا جاتا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ارجنٹینا کے نئے صدر غیر ملکی سرمایہ کرای کو فروغ دیں گے۔ جاپان، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک اس دھات کی کان کنی حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ تاہم جیسے کہ لاطینی امریکہ میں عام طور پر ہوتا ہے کئی لوگ بڑے پیمانے پر کان کنی کے سماجی اور ماحولیاتی نتائج کی جانب اشارے کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مقامی آبادی کو ’نئی گیس‘ کی کان کنی سیفائدہ ہو گا یا نہیں۔
وائٹ گولڈنے ریکارڈ توڑ دیئے،بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف مل گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن کمی
-
فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
بھارت کی خوبرو اداکارہ نے خودکشی کرلی؛ چونکا دینے والی وجہ سامنے آگئی
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
خاتون کیساتھ چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی نئی قیمت جاری
-
یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
-
سال کے آخری روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی، 2025 میں سونا کتنا مہنگا ہوا؟
-
تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اوربرف باری کی پیشگوئی
-
گنے کی فصل مارکیٹ میں آنے پر چینی کی قیمت میں بڑی کمی
-
زبانی لین دین پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال پر پابندی عائد















































