جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست جاری

datetime 2  اپریل‬‮  2016 |

دبئی (نیوز ڈیسک)عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ڈیٹا پر گلوبل فنانس میگزین نے فی کس آمدن کے اعتبارسے دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں سرفہرست ایک مسلمان ملک ہے جبکہ سب سے نیچے آسٹریلیا جیسا ترقی یافتہ سمجھا جانے والا ملک ہے۔عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ڈیٹا پر گلوبل فنانس میگزین کی درجہ بندی کے لیے فی کس آمدنی کو بنایا گیا ہے جس کے مطابق قطر1لاکھ46ہزار11ڈالرکے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ 94167 ڈالرز لگسمبرگ دوسرے‘ سنگاپور 84821 ڈالرزکے ساتھ تیسرے‘ برونائی دارالسلام 80335 ڈالرزسے چوتھے‘کویت 71600 ڈالرزسے پانچویں‘ ناروے 67619 ڈالرزسے چھٹے‘متحدہ عرب امارات 67201 ڈالرزکے ساتھ ساتویں‘ہانگ کانگ 57676 ڈالرزآٹھویں‘ امریکا 57045 ڈالرزسے نویں‘سوئٹزرلینڈ 56815 ڈالرزسے دسویں‘سعودی عرب 56253 ڈالرزکے ساتھ 11ویں‘بحرین 52830 ڈالرزکے ساتھ12ویں‘نیدرلینڈ 48797 ڈالرزسے13ویں‘آئرلینڈ 48786 ڈالرزسے14ویں جبکہ آسٹریلیا 48288 ڈالرز فی کس آمدنی کے ساتھ لسٹ میں سب آخرپریعنی کہ 15ویں نمبر پر ہے‘فی کس آمدن کے حوالے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ڈیٹا پر گلوبل فنانس میگزین کی ٹاپ 10فہرست میں دنیا بڑی معیشتیں سمجھی جانے والے ممالک چین‘جاپان‘برطانیہ‘فرانس وغیرہ جگہ نہیں بنا سکے‘مجموعی طور پر دنیا میں بیروزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے اور بڑی کارپوریشنزکی جانب سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس بیروزگاروں کی فوج میں ہرسال اضافہ کرتی جارہی ہے کیونکہ انسانوں کی جگہ مشینوں اور ربوٹس کو ترجیح دی جارہی ہے کیونکہ کمپنیوں کو ان کی ویلفیئر‘میڈیکل وغیرہ کی مد میں اخراجات برداشت نہیں کرنا پڑتے ‘امریکہ جیسے ملک میں جہاں بیروزگاری کی شرح سرکاری اعدادوشمار کے مطابق12فیصد سے زیادہ ہے میں فارمز ‘کارخانوں سے ضروری اشیائ فروخت کرنے والے ریٹل سٹوروں پر سیلف چیک کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور بڑی کارپوریشن کے تحت چلائے جانے سٹورزمیں تقریبا50فیصد تک سیف چیک نظام نافذکردیا گیا ہے یعنی آپ اپنی خریدی اشیائ خود کمپیوٹرپر سکین کریں‘کارڈ یا کیش کے ذریعے کمپیوٹرمشین کو بل اداکریں ‘اپنا سامان خود تھیلوں میں ڈالیں اسی طرح بنکنگ کے شعبہ میں ای بینکنگ کو فروغ دیا جارہا ہے کہ آپ کہیں جائے بغیرگھر بیٹھے اپنے بل اداکردیں ‘اس میں صارف کو آسانی ضرور ہے مگر اس سے ہزاروں انسان بیروزگار ہونگے‘جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوا ہے کہ جہاں بنکوں کا عملہ محض چند افراد پر مشتمل ہوتا ہے ‘اسی طرح معاشی عدم مساوات کی وجہ سے غربت کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور بعض رپوٹوں کے مطابق دنیا کی نصف کے قریب آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ‘برطانوی ادارے ”آکسفیم“نے 2016کے آغازمیں انکشاف کیا تھا کہ دنیا کی مجموعی دولت کا 99فیصد صرف ایک فیصد کے ہاتھوں میں ہے جبکہ 99فیصد آبادی کے لیے مجوعی دولت کا صرف 1فیصد ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…