اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکی عدالت نے سان برنارڈینو کے حملہ آور کا فون ’ان لاک‘ کرنے کا حکم دے دیا

datetime 17  فروری‬‮  2016 |

سان برنارڈینو(نیوز ڈیسک)امریکہ کی ایک عدالت نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق کے فون سے معلومات کے حصول میں ایف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق کے آئی فون میں اہم معلومات ہیں اور عدالتی حکم میں ایپل سے کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی سافٹ ویئر کی مدد سے اس کا ڈیٹا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نکالے۔ایف بی آئی کا موقف ہے کہ انکرِپشن ٹیکنالوجی کے سبب اس فون کو ابھی تک نہیں کھولا جا سکا ہے یعنی یہ نہیں پتہ چل سکا ہے کہ اس فون میں کیا مواد موجود ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’وسیع پیمانے‘ پر پریشانیاں لاحق ہیں۔ایف بی آئی فاروق کے فون میں پہلے تو اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہے جس سے تفتیش کار ڈیٹا مٹنے کے خطرے کے بغیر جتنی بار چاہیں پاس کوڈ کی آزمائشی کوشش کر سکیں۔وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ فون میں تیزی سے پاس کوڈ کی تبدیلی کے لیے کوئی راستہ ہموار کیا جائے تاکہ پاس کوڈ کے مختلف مرکب کو آزمایا جا سکے۔ایف بی آئی ’بروٹ فورس‘ نامی طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے تحت اس وقت تک ان تمام مرکبات کا استمعال کرنا ہے جب تک صحیح والا ملے اور فون کھل جائے۔ایپل نے اس بارے میں ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کمپنی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرے گی۔ماضی میں بھی ایپل نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے خلاف سخت لڑائی لڑی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے گاہک کا کمپنی پر اعتماد مجروح ہوگا۔اپنی ویب سائٹ پر ایپل نے لکھ رکھا ہے ’وہ تمام آلات جو جو آئی او ایس 8 اور اس کے بعد کے ورڑن استعمال کرتے ہیں، حکومت کے سرچ وارنٹ کی بنیاد پر ایپل آئی او ایس سے ڈیٹا نکالنے کا ذمہ دار نہیں ہے، کیونکہ جن فائلوں کو نکالنا ہے وہ صارف کے پاس کوڈ کی انسکرپٹیڈ کی سے محفوظ ہوتی ہیں جو ایپل کے پاس ہے نہیں۔‘ایپل کا کہنا ہے اس کے پاس اس طرح کی رسائی ہوتی نہیں اور اس نوعیت سے عدالت کا یہ انوکھا حکم ہے اور اب دیکھنا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…