واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدربراک اوبامانے کہاہے کہ امریکا اور آسیان ممالک دونوں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک یکساں طور پر قوانین کی پاسداری کریں، آسیان سربراہ اجلاس کے انعقاد سے خطے میں امریکی کردار اور مفادات میں اضافہ ممکن ہو گا،بطور صدر میں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکا کو دنیا بھر میں درپیش فوری خطرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دنیا میں آسیان سے زیادہ مواقع شاید ہی کسی اور خطے میں دستیاب ہوں، اسی وجہ سے صدر بننے کے بعد سے میں نے ایشیا پیسیفک میں ایک وسیع تر اور طویل مدتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی میزبانی میں جنوب مشرقی ایشیائی سربراہوں کا اجلاس امریکا کے پر فضا مقام سنی لینڈز میں ختم ہوگیا،امریکی صدر باراک اوباما نے اس دو روزہ آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی اسی مقام پر کی ، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کی تھی، اس اقدام کو بھی علامتی طور پر یوں دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا ایشیا پیسیفک میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔چین کے اپنے جنوبی سمندری علاقوں میں قبضوں کے خلاف دباو ڈالنے کی امید کرتے ہوئے اوباما نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران ہی کہا کہ امریکا اور آسیان ممالک دونوں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک یکساں طور پر قوانین کی پاسداری کریں،اس موقع پر امریکی صدراوبامانے امید ظاہر کی کہ آسیان سربراہ اجلاس کے انعقاد سے خطے میں امریکی کردار اور مفادات میں اضافہ ممکن ہو گا،اوباما کا کہنا تھاکہ بطور صدر میں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکا کو دنیا بھر میں درپیش فوری خطرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دنیا میں آسیان سے زیادہ مواقع شاید ہی کسی اور خطے میں دستیاب ہوں۔ اسی وجہ سے صدر بننے کے بعد سے میں نے ایشیا پیسیفک میں ایک وسیع تر اور طویل مدتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی کے ذریعے امریکا فوری طور پر خطے میں چینی سرگرمیوں کے خلاف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو متحد کرنا چاہتا ہے۔اقوام متحدہ کی یہ ثالثی عدالت چین کی جانب سے سمندری حدود میں توسیع کے بارے میں فیصلہ مارچ یا اپریل میں سنائے گی جب کہ چین اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا، امریکا کو امید ہے کہ اگر آسیان ممالک اس عدالت کی حمایت کریں گے تو چین پر دباو بڑھے گا اور مستقبل میں وہ بین الاقوامی طور پر تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ادھر بیجنگ حکومت بھی اپنے خلاف تنقید کو غیر مو ثر کرنے کے لیے اپنے اقتصادی اور سفارتی وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس ضمن میں آسیان کے دو اراکین کمبوڈیا اور لاو 191س کو خاص طور پر چینی دباو کا سامنا ہے۔ یہ دونوں ممالک اقتصادی طور پر چین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔اوباما بھی اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو چین کے اثر و رسوخ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکا کو امید ہے کہ آسیان سربراہ اجلاس ان مقاصد کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر رہا ہے۔آسیان ممالک میں انڈونیشا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، برونائی، لاو س، ویتنام، میانمار اور کمبوڈیا شامل ہیں۔
امریکی سربراہی میں آسیان اجلاس، صدرکا خطاب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عوام کے لئے ریلیف ! پیٹرول 55 روپے مہنگا کرنے کے بجائےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند؟ بڑا اعلان سامنے آگیا
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
آبنائے ہرمز کھل گئی
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
ہیکل سلیمانی
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
حکومت کا موٹر سائیکل اور رکشے والوں کو سستا پیٹرول دینے کا فیصلہ
-
ملک بھر میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی
-
چھٹیوں میں اضافے کی خبریں! وزیرتعلیم پنجاب کا اہم بیان آگیا
-
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
خیبرپختونخوا حکومت نے طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ



















































