جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

امریکی سربراہی میں آسیان اجلاس، صدرکا خطاب

datetime 16  فروری‬‮  2016 |
WASHINGTON, DC - JUNE 26: U.S. President Barack Obama gives remarks on the Supreme Court ruling on gay marriage, in the Rose Garden at the White House June 26, 2015 in Washington, DC. Today the high court ruled that same-sex couples have the right to marry in all 50 states. (Photo by Mark Wilson/Getty Images)

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدربراک اوبامانے کہاہے کہ امریکا اور آسیان ممالک دونوں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک یکساں طور پر قوانین کی پاسداری کریں، آسیان سربراہ اجلاس کے انعقاد سے خطے میں امریکی کردار اور مفادات میں اضافہ ممکن ہو گا،بطور صدر میں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکا کو دنیا بھر میں درپیش فوری خطرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دنیا میں آسیان سے زیادہ مواقع شاید ہی کسی اور خطے میں دستیاب ہوں، اسی وجہ سے صدر بننے کے بعد سے میں نے ایشیا پیسیفک میں ایک وسیع تر اور طویل مدتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی میزبانی میں جنوب مشرقی ایشیائی سربراہوں کا اجلاس امریکا کے پر فضا مقام سنی لینڈز میں ختم ہوگیا،امریکی صدر باراک اوباما نے اس دو روزہ آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی اسی مقام پر کی ، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کی تھی، اس اقدام کو بھی علامتی طور پر یوں دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا ایشیا پیسیفک میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔چین کے اپنے جنوبی سمندری علاقوں میں قبضوں کے خلاف دباو ڈالنے کی امید کرتے ہوئے اوباما نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران ہی کہا کہ امریکا اور آسیان ممالک دونوں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک یکساں طور پر قوانین کی پاسداری کریں،اس موقع پر امریکی صدراوبامانے امید ظاہر کی کہ آسیان سربراہ اجلاس کے انعقاد سے خطے میں امریکی کردار اور مفادات میں اضافہ ممکن ہو گا،اوباما کا کہنا تھاکہ بطور صدر میں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکا کو دنیا بھر میں درپیش فوری خطرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دنیا میں آسیان سے زیادہ مواقع شاید ہی کسی اور خطے میں دستیاب ہوں۔ اسی وجہ سے صدر بننے کے بعد سے میں نے ایشیا پیسیفک میں ایک وسیع تر اور طویل مدتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی کے ذریعے امریکا فوری طور پر خطے میں چینی سرگرمیوں کے خلاف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو متحد کرنا چاہتا ہے۔اقوام متحدہ کی یہ ثالثی عدالت چین کی جانب سے سمندری حدود میں توسیع کے بارے میں فیصلہ مارچ یا اپریل میں سنائے گی جب کہ چین اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا، امریکا کو امید ہے کہ اگر آسیان ممالک اس عدالت کی حمایت کریں گے تو چین پر دباو بڑھے گا اور مستقبل میں وہ بین الاقوامی طور پر تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ادھر بیجنگ حکومت بھی اپنے خلاف تنقید کو غیر مو ثر کرنے کے لیے اپنے اقتصادی اور سفارتی وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس ضمن میں آسیان کے دو اراکین کمبوڈیا اور لاو 191س کو خاص طور پر چینی دباو کا سامنا ہے۔ یہ دونوں ممالک اقتصادی طور پر چین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔اوباما بھی اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو چین کے اثر و رسوخ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکا کو امید ہے کہ آسیان سربراہ اجلاس ان مقاصد کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر رہا ہے۔آسیان ممالک میں انڈونیشا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، برونائی، لاو س، ویتنام، میانمار اور کمبوڈیا شامل ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…