بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں کوئی اتنا امیر اور کوئی اتنا غریب کیوں؟

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)بھارت، ایشیا پیسیفک خطے میں سب سے زیادہ کروڑپتی افراد کی تعداد کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں ایک ملین ڈالر یا اس سے زیادہ سرمائے کے حامل افراد کی تعداد 2لاکھ 36 ہزار ہے تاہم جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ادارے’ نیو ورلڈ ویلتھ‘ کی رپورٹ کے مطابق وہاں امیر اور غریب کے درمیان فرق انتہائی زیادہ ہے۔چین اور جاپان کے بعد ایشیا میں بھارت ارب پتی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارتی معیشت میں کس قدر ترقی ہوئی ہے۔مگر ساتھ ہی سرمائے کی دوڑ میں اوپر اور نیچے والوں کے درمیان فرق بھی شدید ہو گیا ہے۔ سرمائے کی تقسیم میں یہ تفریق بھارت کی تمام تر اقتصادی ترقی کے باوجود غریبوں کی زندگیوں کو بدلنے میں بہت حد تک ناکام رہی ہے۔معاشی عدم استحکام کو جانچنے کے لیے جینی کو ا یفی شنٹ کا معیار استعمال کیا جاتا ہےجس میں’ زیرو‘ مساوت اور 100 مکمل عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے ‘نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مذکورہ انڈیکس میں بھارت سن 1993ئ میں ا?ٹھ اعشاریہتیس پر تھا مگر 2009ئ میں نو اعشاریہ تینتیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کا ڈیٹا عالمی بینک کے پاس موجود نہیں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کے لیے ترتیب دی گئی پالیسیوں نے معاشی عدم مساوات کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سن 1990ئ کی دہائی میں بھارت نے اقتصادی ترقی کے لیے اہم اصلاحات کا اعلان کیا تھاجس میں مارکیٹوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا، درآمدی محصولات میں کمی اور کچھ شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہم وار کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ان اصلاحات کی وجہ سے کئی ملین بھارتی شہری غربت کے دائرے سے باہر نکلے جب کہ ان اصلاحات کا بہت زیادہ فائدہ کچھ خاص اداروں اور کمپنیوں کو بھی ہوا جو اپنے سرمائے کو دن دوگنا رات چوگنا بناتے ہوئے بے انتہا سرمایے کی مالک بن گئیں۔ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی کا ایک فیصد امیر طبقہ مجموعی ملکی دولت کے 53 فیصد کا مالک ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…