منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

بھارتی ائیر لائن نے تاخیر سے پہنچنے پر کیرالہ گورنر کو سوار ہونے سے روک دیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2015 |

نئی دہلی(آن لائن) بھارت کی سرکاری ایئر لائن ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ نے ریاست کیرالہ کے گورنر پی سداشیوم کو تاخیر پر پہنچنے پر طیارے میں سوار کرنے سے انکار کر دیا۔گورنر سداشیوم کو کیرلا کے شہر کوچی سے ریاستی دارالحکومت ترواننتپورم جانا تھا لیکن مبینہ طور پر وہ ایئر پورٹ کافی تاخیر سے پہنچے تھے۔بھارت میں ایسے عہدوں پر فائز اہم شخصیات کو وی آئی پی مراعات حاصل ہوتی ہیں لیکن پائلٹ نے انہیں یہ رعایت دینے سے انکار کر دیا۔گورنر کے پروٹوکول افسر نے کہا کہ گورنر سدا شیوم طیارے کی پرواز سے محض 10 منٹ پہلے کوچین کے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔اس وقت مسافروں کو سوار کرنے کے لیے طیارے میں لگائی جانے والی سیڑھی ہٹا لی گئی تھی اور جہاز کو واپس رن وے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ جب گورنر پہنچے تو مسافروں کو سوار کرنے کے لیے طیارے میں لگائی جانے والی سیڑھی ہٹائی جا چکی تھی اور جہاز کو واپس رن وے کی طرف لے جایا جا رہا تھاجب گورنر کے دفتر کے بعض حکام نے اس معاملے پر ایئر لائنز کے افسران کو سمجھانے کی کوشش کی تو پائلٹ نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔پھر بعد میں گورنر سدا شیوم رات کے بجائے صبح فلائٹ پکڑی اور ترواننتپورم پہنچے۔بعد میں اس طرح کی بھی اطلاعات آئیں کہ ایئر انڈیا کے حکام نے دہلی سے کوچی ہوتے ہوئے ترواننتپورم جانے والی فلائٹ نمبر A۔1048 تاخیر کا شکار ہے اور اپنے مقررہ وقت رات 9.45 کے بجائے 11.40 بجے روانہ ہوگی۔گورنر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر گورنر کی توہین کرنے کے لیے ایئر انڈیا کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔لیکن ایئر لائنز کی طرف سے اس پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس دوران ریاست کے وزیر اعلی اون چانڈی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مناسب حکم کے ساتھ اٹھائیں گے۔ بھارت میں ارکان پارلیمان، گورنر سیاست دان اور سیاسی رہنماو¿ں کو خصوصی پروٹوکال ملتا ہے جس کا وہ کئی بارغلط استعمال بھی کرتے ہیں۔اگر وہ دیر سے پہنچیں تو اکثر ان کی خاطر فلائٹز اور ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر کر دی جاتی ہے جس سے عام مسافروں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…