ریاض(آن لائن) سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ روز لبنانی حزب اللہ کے جن عناصر کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا وہ سعودی عرب میں موجود نہیں ہیں۔سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے غےر ملکی مےڈےا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی شدت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ جن عناصر کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کی ہیں وہ سعودی عرب میں موجود نہیں اور نہ ہی ان کا تعلق سعودی عرب میں موجود دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز ریاض حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے عناصر اور بعض اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں جنرل الترکی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے لیے معاونت کرنے والے جن افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے وہ مشرق وسطیٰ کے مختلف ملکوں میں سرگرم ہیں مگر لبنان سے باہر کام کر رہے ہیں۔ حزب اللہ کی معاونت کرنے والے ادارے اور افراد نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملکوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔میجر جنرل الترکی نے کہا کہ حزب اللہ کے جن عناصر پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں ماضی میں ان کے بنک کھاتے سعودی عرب کے بنکوں میں موجود تھے مگر انہیں منجمد کر دیا گیا ہے۔ حکومت نےحزب اللہ کی مالی معاونت کرنے والے تمام مشکوک کھاتوں کو بند کرتے ہوئے متعلقہ بنکوں کو سخت اقدامات کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ریاض حکومت حزب اللہ کی معاونت کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو سعودی عرب میں کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے افراد اور عناصر سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث ہونے کے باعث حزب اللہ کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حزب اللہ کی حمایت اور مدد پر خاموشی کا کوئی جواز نہیں ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے شاہی فرمان 44 کے تحت گذشتہ روز حزب اللہ سے تعلق اور تنظیم کی مالی معاونت کی پاداش میں علی موسیٰ دقدوق الموسوی، محمد کوثرانئ ، محمد یوسف احمد منصور، ادھم طباجہ، ایک سیاحتی کمپنی اور اس کی تمام ذیلی شاخوں، قاسم حجیج، حسین علی فاعور، مصطفیٰ بدرالدین، ابراہیم عقیل، فواد شکر، عبد النور الشعلان، محمد نجیب کریم اور محمد سلمان فواز نامی شدت پسندوں پر کو بلیک لسٹ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کی تھیں۔
“حزب اللہ کے بلیک لسٹ دہشت گرد سعودی عرب میں نہیں” منصور الترکی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
درآمدی سولر پینل پر کسٹمز ڈیوٹی کیلیے نئی قیمتیں مقرر
-
شاطر ڈرگ ڈیلر پنکی، جس نے شناخت چھپانے کیلیے تیزاب میں انگلیاں جلائیں، زندگی سے متعلق اہم انکشافات
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
ٹریفک حادثے کے بعد کار سوار نے نوجوان کو گولیاں مار دیں
-
نوجوانوں کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی، وزیر اعطم نے ہدایت جاری کر دی
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
انمول عرف پنکی کیخلاف قتل کے مقدمے سے متعلق تفصیلات منظر عام پر آگئیں
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































