منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

داعشی بلڈوزر شہریوں پر رعب جمانے کا ذریعہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض انتہا پسند گروپ دولت اسلامیہ داعش اپنی سفاکیت اور عام شہریوں پر خوف طاری کرنے کے لیے نہایت ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ حال ہی میں برطانوی اخبار “ڈیلی میل” نے داعش کے ایک بھاری بھرکم اور فربہ جنگجو کی تصاویر جاری کی ہیں جسے داعش کے ہاں عرف عام میں ‘بلڈوزر’ کہا جاتا ہے۔ داعش اسے عراقی شہریوں اور بچوں کو تنظیم میں شامل کرنے کی خاطر ورغلانے اور داعش سے دور رہنے والوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق “داعشی بلڈوزر” نامی دہشت گرد اپنی جسمامت اور قد کاٹھ میں کسی بھاری بھرکم ریسلر سے کم نہیں مگرمگر اس کی نقاب پوشی اس کی بزدلی کی گواہی دیتی ہے کیونکہ اسے جب بھی یرغمال بنائے گئے شہریوں کی گردنیں اڑاتے دیکھا گیا اس نے اپنا چہرہ سیاہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا ہے۔ مخالفین کو قتل کرنے والے داعشی جلادوں کا یہ عام وتیرہ ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے آنے سے قبل ہی اپنے چہرے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ ان کی شناخت نہ کی جاسکے۔ داعشی بلڈوز کے ایک دوسرے دہشت گرد ساتھی محمد اموازی المعروف جہادہ جون جو داعش کا جلاد مشہور ہے بھی اپنے چہرے کو ڈھانپ پر لوگوں کی گردنیں اتارتا رہا ہے۔ایک ہفتہ قبل 14 سالہ ایک شامی لڑکے کا انٹرویو سامنے آیا۔ شام کے ٹی وی 4 کو انٹریو دیتے ہوئے لڑکے نے بتایا کہ وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک “داعشی بلڈوزر” کے ظلم وستم کا شکار رہا ہے۔ داعشی جنگجو اسے داعش میں شامل ہونے کے لیے دباﺅ ڈالتا، اس کے انکار پر تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔عمر نامی اس شامی لڑکے نے بتایا کہ جب اس نے “داعش” میں بھرتی ہونے سے انکار کیا تو داعشی بلڈوزر نے بچوں اور بڑی عمر کے شہریوں کا ایک مجمع اکھٹا کیا۔ ان کے سامنے میرا دایاں ہاتھ اور بایاں پاﺅں باندھا۔ اس کے بعد اس کا ہاتھ اور پاﺅں لکڑے کے ایک بلاک پر رکھے اور تلوار سے ہاتھ اورپاﺅں کو کاٹ دیا۔ یہ سارا منظرآس پاس جمع کردہ بچوں کو بھی دکھایا گیا تاکہ وہ داعش کے ہاتھوں خوف کا شکارہوں۔عمر داعشی بلڈوزر کو پہچان تو نہیں سکا تاہم اس نے اپنے موبائل فون میں اس کی نقاب پوش حالت میں تصویر محفوظ کرلی تھی۔یاد رہے کہ عمر شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسے داعشی جنگجوﺅں نے یرغمال بنا لیا تھا۔داعشی بلڈوزر پہلی بار جون 2014ئ میں منظرعام پر آیا۔ اس کی پہلی تصویر میں اسے ایک 52 کلو وزنی مشین گن اور بلٹ پروف آرمر کو توڑنے کے لیے استعمال ہونے والی گولیوں کا ایک پٹا اٹھائے دکھایا گیا تھا۔ایک دوسری تصویر میں اسے دو مشتبہ افراد کی گردنیں اڑاتے بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ تصاویر عراق کے الانبار گورنری میں لی گئی تھیں۔ مغویوں کے قتل کے وقت بڑی تعداد میں شہریوں کو بھی قریب کھڑے کر کے انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…