جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

سعودی سفیر پر بھارتی الزام

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

دہلی(نیوزڈیسک)بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک سعودی سفارت کار جن پر دو نیپالی خواتین کے مبینہ ریپ کا الزام ہے وہ سفارتی استثنیٰ کے تحت بھارت چھوڑ چکے ہیں۔دونوں متاثرہ خواتین کی عمریں 30 اور 50 سال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اغوا کر کے ایک فلیٹ میں بھوکا رکھا گیا اور سفارت کار نے انھیں بار بار ریپ کیا تھا۔سعودی عرب نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے اہلکار کے سفارتی استثنیٰ کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں اس اہلکار پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی سفارت کار کی بھارت سے روانگی نے بھارت کو ایک سفارتی مخمصے سے نکال لیا ہے۔نیپال اور بھارت کے سفارتی تعلقات گہرے ہیں لیکن بھارت تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا جہاں لاکھوں بھارتی شہری کام کرتے ہیں۔بدھ کی رات کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ایک بیان میں کہا کہ فرسٹ سیکرٹری مجید حسن اشور ’جن پر دو نیپالی خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام ہے نے ملک چھوڑ دیا ہے‘

مزید پڑھئے: ”وہ پاکستانی جو یوکرائن کی امیر ترین شخصیت بن گیا“

۔انھوں نے مزید کہا کہ سرکاری سفارتی تعلقات پر مبنی ویانا کنوینشن کے تحت مذکورہ سفارتی اہلکار کو تحفظ حاصل ہے۔بھارتی پولیس نے اس سے پہلے سعودی عرب کار پر ریپ، اغلام بازی اور کسی شخص کو غیر قانونی طور پر قید کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔دونوں خواتین کو بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں کے ایک فلیٹ سے بچایا گیا تھا جس کے بارے میں پولیس کو ایک غیر سرکاری تنظیم نے بتایا تھا۔خواتین گھریلو کام کرتی تھیں اور ان پر مبینہ طور پر زیادتی کئی ماہ سے ہو رہی تھی۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ ’ہمیں لگتا تھا جیسے ہم یہاں پر مر جائیں گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ روزانہ زیادتی ہوتی تھی۔انھوں نے مزید کہا کہ فلیٹ کی عمارت بہت اونچی تھی اور وہ وہاں سے بالکل نہیں بھاگ سکتی تھیں۔دونوں خواتین کو گذشتہ ہفتے واپس نیپال بھیج دیا گیا تھا۔نیپال دنیا کے سب سے غریب ممالک میں سے ایک ہے اور ملک سے ہزاروں لوگ گھریلو ملازمت یا مزدوری کے لیے بھارت یا دیگر ایشیائی اور عرب ریاستوں کا سفر کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…