اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

دنیا کے کامیاب ترین افراد کن مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں ؟ تحقیق سے پتہ چل گیا

datetime 3  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد( سپیشل رپورٹ) کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی کا دارومدار مختلف صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہوتا ہے،برٹش کونسل کی اس حوالے سے جاری ہونے والی حالیہ تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا تجربہ کسی بھی رہنما کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔برٹش کونسل کے نتائج 30 ممالک کے تعلیمی پس منظر کےحامل 1,700 افراد پر مبنی ہے جن کا تعلق کارپوریٹ، غیر منافع بخش اداروں اور حکومتی پس منظر سے تھا۔مطالعہ میں موجودہ 10پیشہ وارانہ ’لیڈرز‘ یا قائدین کا انٹرویو بھی شامل تھا، جن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں متعلقہ شعبے میں ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ماہرین نے کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، جیسا کہ دنیا کے بہت سے کامیاب ترین لوگوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے ان میں مشہور کاروباری شخصیات فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ اور رچرڈ برینسن کا نام شامل ہے۔تاہم ہمارا مطالعہ ان رہنماو¿ں اور کامیاب افراد پر ہے جنھوں نے اپنی ڈ گریاں مکمل کی ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں کامیاب بنانے میں مدد کی ہے۔تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماو¿ں نے سوشل سائنس (سماجی سائنس) اور ہیو مینٹیز (غیر سائنسی علوم ) کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی۔ جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیو مینٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔نوجوان رہنما جن کی عمریں 45 برس سے کم تھیں، ان کا پس منظر سماجی سائنس اور ہیومینٹیز سے تھا، لیکن اس کے برعکس بڑی عمر کے رہنماو¿ں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کا مطالعہ کیا تھا۔ماہرین نے کہا کہ ہمارے نتائج یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ خاص تعلیمی نظم و ضبط کیرئیر کی کامیابی کی طرف قیادت کرتا ہے، بلکہ نتیجے سے پتا چلا کہ رہنما زیادہ تر تکنیکی شعبوں، مثلا صحت، ماحول، توانائی، سیکیورٹی اور دفاعی پس منظر تھا۔جو لوگ حکومت میں تھے ان میں سوشل سائنس پڑھنے کا امکان تھا اور جو غیر منافع بخش اداروں کے لیے کام کرتے تھے ان کے پاس ہیومینیٹیز کی ڈگری تھی۔ماہرین نے کہا اعلیٰ تعلیم براہ راست سیکھنے کے مقابلے میں زیادہ تجربہ فراہم کرتی ہے، جیسا کہ طالب علم جانتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی مطالعے سے باہر کی سرگرمیوں اور تجربات سے نئی مہارتیں سیکھتے ہیں اسی حوالے سے ان دس رہنماو¿ں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ان کی کامیابی میں حصہ ہے اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے ذریعے انھوں نے نظم و ضبط اور مسابقتی دوڑ کو سیکھا ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مختلف ثقافتوں کے ساتھ مطالعہ کا تجربہ اور یونیورسٹی کے ماحول نے انھیں کاروباری یا تخلیقی بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً نصف 46 فیصد رہنماو¿ں نے بین الاقوامی تعلیم یا ملازمت کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ جتنی اعلیٰ سطح کی ان کی ڈگری تھی اتنا ہی ان میں بیرون ملک تعلیم کا امکان زیادہ تھا۔ ان کامیاب افراد نے زیادہ تر بیرون ملک سے ماسٹرز کی ڈگری یا پیشہ ورانہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جبکہ سب سے مقبول مطالعہ کی منزل امریکہ اور برطانیہ ہیں۔رہنماو¿ں میں ہیومینٹیز میں گریجویٹس کی سب سے بڑی تعداد کینیڈا سے آئی تھی، اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ سے 19 فیصد، پولینڈ، روس اور یوکرین سے 18 فیصد اور چین، چاپان اور جنوبی کوریا سے 16 فیصد رہنماو¿ں نے غیر سائنسی علوم میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔نتائج سے انکشاف ہوا کہ مصر، سعودی عرب اور ترکی سے تعلق رکھنے والے رہنماو¿ں میں 71 فیصد بین الاقوامی تعلیمی تجربے کا امکان تھا، جبکہ ان کے مقابلے مین کینیڈین، برطانوی اور امریکی رہنماو¿ں کی ایک چوتھائی تعداد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھی۔آسٹریا، جرمنی، نیدرلینڈ میں 96 فیصد اور ارجنٹینا، برازیل اور میکسیکو کے رہنماو¿ں میں اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات 91 فیصد پائے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…