کابل(نیوزڈیسک)افغانستان کے شمال مشرقی علاقے میں 3 روز سے جاری لڑائی کے بعد 100 سے زائد پولیس اور بارڈر سیکیورٹی اہلکار ہتھیار ڈال کر طالبان کے ساتھ مل گئے جس کے بعد طالبان نے صوبہ بدخشاں کے کئی علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ افغان طالبان نے کہا ہے کہ عمائدین کی درخواست پر 120پولیس اہلکاروں کو اسلحہ لیکر رہا کر دیا گیا ہے ¾اہلکاروں نے یقین دہانی کرائی ہے دوبارہ سکیورٹی فورسز میں شامل نہیں ہونگے ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں قائم تیرگران کا پولیس بیس کیمپ طالبان کے زیر قبضہ آگیا جس کے بعد افغان فورسز کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہوگیا خیال رہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز کے انخلاءکے بعد افغانستان کے دور دراز علاقوں میں قائم سیکیورٹی بیس کیمپس اور چیک پوسٹوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آیا حملوں میں افغان سیکیورٹی اداروں کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔بدخشاں کے صوبائی پولیس چیف جین بابا جان کے مطابق شدید بارشوں کے باعث ضلع واردوج میں قائم پولیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔بدخشاں کے صوبائی کونسل کے سربراہ عبداللہ ناجی کے مطابق گذشتہ تین روز سے جاری لڑائی کے دوران کسی بھی قسم کی امداد نہیں بھیجی گئی جس کے نتیجے میں ان کے پاس کوئی آپشن موجود نہیں تھا اور انھوں نے طالبان میں شمولیت اختیار کرلی۔جان کے مطابق مقامی پولیس کمانڈر نے بھی طالبان میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور بیس پر موجود تمام اسلحہ اور گولہ بارود طالبان کے حوالے کردیا ۔طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیاکہ انھوں نے بیس کیمپ پرقبضہ حاصل کرلیا ہے جہاں مقامی بارڈر سیکیورٹی پولیس سربراہ اور مقامی پولیس کمانڈر سمیت 120 پولیس اہلکار موجود تھے افغان طالبا ن نے کہاہے کہ 120پولیس اہلکار جنہوںنے اپنی مرضی سے ہفتہ کو صوبہ بدخشاں میں اپنے آپ کو طالبان کے حوالے کیا تھا کو اتوار علاقہ کے عمائدین کی درخواست پر انہیں رہا کر دیا طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاکہ صوبے وردوج میں پولیس کی پوسٹ کو محاصرے کے بعد قبضے میں لے لیا گیا تھا انہوںنے کہاکہ عمائدین کی ثالثی کے بعد پولیس کو اس یقین دہانی پر رہا کر دیا گیا کہ وہ آئندہ سکیورٹی فورسز میں شامل نہیں ہونگے طالبان ترجمان کے مطابق پولیس نے طالبان کو کہا تھا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں ذبیح اللہ مجاہد نے کہاکہ طالبان نے اسلامی اصولوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسلحہ طالبان کے حوالے کر نے کے بعد پولیس اہلکاروں کو گھروں کو جانے دیا گیا ہے واضح رہے کہ بیس پر ہونے والا حملہ گذشتہ ماہ ضلع یمگان کی سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر سینکڑوں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں پولیس اہلکاروں کو قبضہ چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا۔
افغانستان میں پھر حالات خراب،طالبان نے اہم صوبے پر قبضہ کرلیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موسمی پرندے
-
مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
ڈاکٹر سارنگ ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت،مقتول کی اہلیہ مبینہ طور پر ملوث نکلی
-
عوام کیلئے بڑی خوشخبری ، عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں
-
عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں موسم کیسا رہےگا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز ک...
-
ایک میزائل، متعدد نشانے، بھارت کا’’مشن دیویاستر‘‘ کے تحت ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبہ بھر میں آندھی اور بارشوں کے متعلق الرٹ



















































