بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

واجپائی نے گجرات فسادات پر غلطی تسلیم کر لی تھی،را کے سابق افسر کا انکشاف

datetime 4  جولائی  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت کی خفیہ ایجنسی را (آر اے ڈبلیو یعنی ریسرچ اینڈ اینیلیسس ونگ) کے سابق سربراہ اے ایس دْلت نے کہا ہے کہ گجرات فسادات کو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے غلط بتایا تھا۔انڈیا ٹوڈے ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دْلت نے دعوی کیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم واجپائی نے فسادات کے تناظر میں کہا تھا کہ ’ہم سے غلطی ہوئی ہے۔‘دْلت نے بتایا: ’سنہ 2004 کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد میں ان سے ملنے پہنچا تھا۔ شکست پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ گجرات میں شاید ہم سے غلطی ہو گئی۔‘دْلت کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر اجے کمار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کو اب گجرات فسادات پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیے اور ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔اس بیان پر بی جے پی کے ترجمان ایم جے اکبر نے کہا: ’یہ سوال اب پوری طرح بے محل ہے۔ دس سال سے زیادہ عرصے کی وسیع جانچ کے بعد وزیر اعظم کے خلاف کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ کانگریس کو ان کی ایمانداری پر سوال اٹھانے کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔‘دْلت نے اپنی نئی کتاب ’کشمیر: دی واجپائی ائیرز‘ میں یہ انکشافات کیے۔دْلت نے یہ بھی کہا کہ سنہ 1999 میں ایئر انڈیا کے طیارے کے اغوا کیے جانے کے معاملے کے دوران جموں و کشمیر کے وزیر اعلی فاروق عبداللہ ’دہشت گردوں‘ کو چھوڑنے کے فیصلے کے خلاف تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک اجلاس کے دوران فاروق عبداللہ ان پر چیخ پڑے تھے۔
سنہ 2000 تک را کے سربراہ اور پھر کشمیر معاملات پر وزیر اعظم واجپائی کے مشیر رہنے والے دْلت نے یہ بھی بتایا کہ عبداللہ اتنے ناراض تھے کہ استعفٰی تک دینا چاہتے تھے۔دْلت کا کہنا ہے کہ طیارے اغوا کیس کے وقت کرائسس مینجمنٹ گروپ سے بڑی چوک ہوئی تھی اور جہاز امرتسر سے پرواز کرگیا تھا۔دْلت نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ سنہ 2002 میں واجپائی نے فاروق عبداللہ کو نائب صدر بنانے کا وعدہ کیا تھا جو انھوں نے پورا نہیں کیا۔انھوں نے بتایا کہ واجپائی کے چیف سیکریٹری برجیش مشرا نے ان کے گھر پر ہی فاروق عبداللہ کو یہ تجویز دی تھی اور عبداللہ اس کے لیے فورا راضی ہو گئے تھے۔عبداللہ نے اس بارے میں اس وقت کے وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی اور وزیر اعظم واجپائی سے بھی بات کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ فاروق عبداللہ ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ دہلی ان پر یقین نہیں کرتی۔را کے سابق سربراہ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سنہ 2002 میں اٹل بہاری واجپائی یہ نہیں چاہتے تھے کہ مفتی محمد سعید کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنیں اور اس کے لیے انھوں نے کانگریس کو پیغام دیا تھا کہ کانگریس کو اپنا ہی وزیر اعلیٰ بنانا چاہیے۔خیال رہے کہ اس کے برعکس کانگریس نے مفتی محمد سعید کو ہی وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔واجپائی کی مفتی سے مخالفت کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ان دنوں محبوبہ مفتی کی حزب المجاہدین سے تعلق ہونے کی کہانیاں کہی جاتی تھیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ کہانیاں غلط نہیں تھیں۔‘



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…