پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بوسٹن میں دو سال قبل بم دھماکے کرنیوالے مجرم جوہر سارنیف نے متاثرین سے معافی مانگ لی

datetime 25  جون‬‮  2015 |

بوسٹن (نیوزڈیسک)امریکہ کے شہر بوسٹن میں دو سال قبل بم دھماکے کرنے کے مجرم جوہر سارنیف نے اس حملے کے متاثرین سے معافی مانگی ہے۔21 سالہ چیچن نڑاد سارنیف نے بدھ کو عدالت میں خود کو رسمی طور پر موت کی سزا سنائے جانے سے پہلے یہ معافی مانگی۔دھماکے میں زخمی ہونے والوں اور ہلاک شدگان کے لواحقین کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں نے جانیں لیں اور آپ سب کو تکلیف میں مبتلا کیا۔جوہر سارنیف اور ان کے بھائی نے 2013 میں بوسٹن میں ہونے والی سالانہ میراتھن ریس کے موقع پر اختتامی لائن کے قریب بم نصب کیے تھے جن کے پھٹنے سے چار افراد ہلاک اور 264 زخمی ہوئے تھے۔جوہر کے 26 سالہ بھائی تیمرلان سارنیف بوسٹن بم دھماکوں کے دو روز بعد پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے جبکہ انھیں امریکی پولیس نے میساچوسٹس میں ایک کشتی سے پکڑا تھا جو ایک گھر کے پیچھے کھڑی تھی۔رواں برس مئی میں ان پر چلائے جانے والے مقدمے میں جیوری نے طویل مشاورت کے بعد انھیں مہلک ٹیکے کے ذریعے سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔بدھ کو عدالت میں سارنیف نے مقدمے کے دوران اپنے پہلے بیان میں کہا کہ انھوں نے ان سب لوگوں کی بات سنی جو مقدمے میں گواہی دینے آئے اور انہوں نے حملے میں زندہ بچ جانے والے لوگوں کی مضبوطی، صبر و تحمل اور وقار کو بھی دیکھا۔سماعت کے بعد کمرہ عدالت کے باہر متاثرین کی جانب سے سارنیف کے معافی مانگنے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔متاثرین میں شامل ایک خاتون لین جولیئن کا کہنا تھا کہ سارنیف کی معافی کھوکھلی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اسے سننا چاہا۔اسے کوئی ندامت نہیں تھی۔تاہم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص ہینری بوگارڈ نے کہا کہ وہ سارنیف کو معاف کرتے ہیں۔ ’یہ سننا کہ اسے اپنے کیے پر افسوس ہے میرے لیے کافی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کے خیالات حقیقی تھے۔ لیکن میرے پاس یہ جاننے کے لیے کوئی طریقہ نہیں۔جوہر سارنیف کو انڈیانا کی فیڈرل جیل میں بھجوایا جائے گا جہاں وہ سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کریں گے جبکہ اس دوران اعلی عدالتوں میں اپیل کا ایک طویل سلسلہ ہوگا۔خیال رہے کہ ریاست میساچوسٹس میں سزائے موت کو سنہ 1984 میں کالعدم قرار دیا گیا لیکن جوہر سارنیف پر وفاق کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں موت کی سزا ہو سکتی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…