پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کا 7 یورپی ملکوں میں بھاری اسلحہ منتقل کرنے کا اعلان

datetime 24  جون‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکہ نے اپنے لگ بھگ 250 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بھاری توپ خانہ مشرقی اور وسطی یورپ کے سات ممالک منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسٹونیا کے دارالحکومت ٹیلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے بتایا کہ امریکہ کے اس اقدام کا مقصد اپنے نیٹو اتحادیوں کا عدم تحفظ دور کرنا ہے جوروس اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے لاحق خطرات کے باعث خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ایش کارٹر نے کہا کہ یہ بھاری ہتھیار تین بالٹک ریاستیں ایسٹونیا، لتھوانیا اور لٹویا کے علاوہ بلغاریہ، رومانیہ اور پولینڈ میں رکھے جائیں گے .کچھ اسلحہ جرمنی بھی منتقل کیا جائےگاانہوں نے بتایا کہ ان میں سے ہر ملک میں اتنا اسلحہ ذخیرہ کیا جائےگا جو کم از کم فوج کی ایک کمپنی (جو لگ بھگ ڈیڑھ سو سپاہیوں پر مشتمل ہوتی ہے) یا ایک بٹالین (جس میں تقریباً 750 فوجی اہلکار ہوتے ہیں) کی ضروریات کےلئے کافی ہوگا۔ٹیلن میں تینوں بالٹک ریاستوں کے وزرائے دفاع کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایش کارٹر نے کہا کہ وسطی اور مشرقی یورپ کے ان ملکوں میں عارضی طور پر اتنی گاڑیاں اور متعلقہ اسلحہ رکھا جائے گا جو ایک آرمرڈ بریگیڈ کے لڑاکا دستے کے لیے کافی ہو۔انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں ذخیرہ کیا جانے والا یہ امریکی اسلحہ اور گاڑیاں تربیت اور فوجی مشقوں میں استعمال کی غرض سے خطے کے دیگر علاقوں میں بھی منتقل کی جاسکیں گی۔امریکی وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ ان کا ملک روس کے ساتھ کوئی سرد جنگ چھیڑنا یا محاذ گرم کرنا نہیں چاہتا تاہم امریکہ خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے اقدامات ضرور کرے گا۔امریکی وزیرِ دفاع کے اعلان پر اپنے ردِ عمل میں روسی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ٹینک اور بھاری ہتھیار روسی سرحد سے متصل ملکوں میں منتقل کرنا سرد جنگ کے خاتمے بعد سے امریکہ کا سب سے جارحانہ قدم ہوگا اسلحے کی منتقلی کے اس امریکی منصوبے کے ردِ عمل میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا ملک اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں 40 سے زیادہ بین البراعظمی میزائلوں کا اضافہ کرےگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…