پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

دولت اسلامیہ کی نگرانی کے لیے نئی یورپی پولیس ٹیم کا قیام

datetime 22  جون‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک)پورے یورپ پر مبنی ایک پولیس ٹیم بنائی جا رہی ہے جو دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پتہ چلائے گی اور انھیں بلاک کرے گی۔امریکہ میں کیے جانے والے ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ صرف ٹوئٹر پر اس شدت پسند گروپ سے منسلک 46 ہزار اکاؤنٹس ہیں جن میں سے بعض دولت اسلامیہ کے لیے نئے افراد کی شمولیت میں تعاون کرتے ہیں۔یوروپین پولیس ایجنسی یوروپول اب ایک بینام سوشل میڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر ان اکاؤنٹس کا پتہ چلانے کے لیے کام کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ کسی نئے اکاؤنٹ کے بنائے جانے کے دو گھنٹے کے اندر اسے بند کرنے کا ان کا ہدف ہے۔یوروپول کا کہنا ہے کہ یوروپ کے تقریباً پانچ ہزار شہریوں نے ان علاقوں کا سفر کیا ہے جو دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں اور ان میں برطانیہ، فرانس، بیلجیئم، ہالینڈ کے شہری شامل ہیں۔یوروپول کے ڈائرکٹر روب وینرائٹ نے برطانوی اخبار دی گارڈیئن کو بتایا نئی ٹیم آئندہ ماہ یکم جولائی سے اپنا کام شروع کرے گی اور ان کا کام ’آن لائن سرغنہ کی نشاندہی‘ کرنا ہوگا۔تاہم انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کا پتہ چلانا اپنے آپ میں بہت بڑا کام ہے۔واشنگٹن میں بروکلنگ انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس 90 ہزار تک ہو سکتے ہیں۔فروری میں تین نوجوان لڑکیاں جو لندن کے ایک ہی سکول میں زیر تعلیم تھیں انھوں نے پہلے ترکی کا رخ کیا پھر وہاں سے شام چلی گئیں۔بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک شمیمہ بیگم دولت اسلامیہ کے کسی جنگجو کی اہلیہ کے ساتھ ٹوئٹر پر رابطے میں تھیں۔ان کے خاندان کے لیے کام کرنے والے وکیل نے بتایا کہ پولیس تمام پیغامات کی نگرانی کر رہی تھی اور اسے ان لوگوں کے گھر چھوڑنے سے پہلے حرکت میں آنا چاہیے تھا۔کیا دولت اسلامیہ کے حامیوں کو مین سٹریم سوشل نٹورک سے نکال باہر کیا جا رہا ہے؟جہادی گروپوں کے ماہر اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں فیلو ایرون زیلن کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو عام طور پر ممکنہ نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن براہ راست نہیں۔انھوں نے کہا کہ زیادہ کھلے طور پر بھرتی کے سلسلے میں سکائپ، واٹس ایپ اور کک پر باتیں ہوتی ہیں۔جہادی اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے والے گروپ سائٹ کی ایک ڈائرکٹر ریٹا کیٹز کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو ہمیشہ آن لائن پر سوشل میڈیا پر بلاک ہونے سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں فخریہ بیان جاری کیا کرتے ہیں۔اپریل میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں ریٹا کیٹز نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے بہتر سکیورٹی انتظامات پر زور دیا اور صرف اکاؤنٹس کے روکے جانے کو ناکافی بتایا۔انھوں نے لکھا: ’اندھیرے میں تیر چلانا بند کریں اور ٹوئٹر پر دولت اسلامیہ اور ان کے حامیوں کو پہچانیں۔ وہ پرعزم ہیں اور خطرناک حد تک ڈھلنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹویٹ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ٹوئٹر بذات خود ان کے فروغ اور وجود کا اہم ذریعہ ہے۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…