لندن(نیوزڈیسک)پاکستانی نژاد برطانوی سابق رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت انتہا پسندی سے متعلق مسلمانوں کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے بھی ڈیوڈ کیمرون کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ برطانیہ کی سابق وزیر سعیدہ وارثی نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انتہاپسندی سے متعلق برطانوی مسلمانوں کے خدشات دور کرنے میں ناکام ہے، سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں انہوں نے ڈیوڈ کیمرون حکومت پر یہ تنقید بھی کی کہ وہ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے مسلم کمیونٹیز کو نہ صرف اعتماد میں لینے میں بھی ناکام رہی ہے، بلکہ اس نے انتہاپسندی کو فروغ دینے والے رجحانات کو بھی نظر کیا، تاہم انہوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف ڈیوڈ کیمرون کی پالیسی اور برطانوی مسلم برادری کے کردار سے اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب موجودہ رکن پارلیمنٹ پاکستانی نژاد یاسمین قریشی بھی ڈیوڈ کیمرون حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے ڈیوڈ کیمرون کے بیان کی مذمت کی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی دہشتگردی کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کبھی سیاہ فام افراد سے ان کے نسل پرستانہ رویے پر معافی کا مطالبہ کیا گیا؟۔
سعیدہ وارثی اور یاسمین قریشی کا برطانوی حکومت کو منہ توڑ جواب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































