پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ہوا، پانی، پرندوں کے لیے ویزا فری،مودی کااعلان

datetime 9  جون‬‮  2015 |

سرحد پر ہندوستانی پنجاب میں داخل ہوا تو پلک جھپکتے ہی اسے جاسوسی کے شبے میں دبوچ لیا گیا۔بے چارہ ابھی پنجاب پولیس کی تحویل میں ہے لیکن اونچی اڑان بھرنے کی چاہ رکھنے والے باقی کبوتر اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ نہ وہ جان پر کھیل کر سرحد پار کرتا، نہ پکڑا جاتا، نہ حکومت اپنی پالیسی بدلتی نہ ان کے لیے نئی بلندیوں کو چھونے کی راہ ہموار ہوتی۔لیکن بس ذرا سی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ سیر و تفریح کے لیے تشریف لائیں، گھومیں پھریں، مزے کریں، بظاہر حکومت خطے کے کبوتروں کے درمیان رابطے بڑھاناچاہتی ہے، لیکن در پردہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس میں نہ کوئی ڈھیل برتی جاسکتی ہے نہ برتی جانی چاہیے۔اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو انسانوں کے لیے بھی ویزے کی شرائط نرم کی جاسکتی ہیں۔ لیکن کسی جلدبازی میں نہیں، بنگلہ دیش سے تو پرانی دوستی ہے، پھر بھی معاہدے پرعمل کرنے میں 41 سال لگ گئے۔اور ہاں، کشمیری حریت پسند کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، مسئلہ کشمیر اور چٹ محل کے تنازعے میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد پر صرف لوگ ادھر رہنے یا ادھر جانے کا فیصلہ کریں گے، زمین وہیں رہے گی جہاں ہمیشہ سے تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…