پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

انٹار کٹیکابراعظم میں کونسا تاریخی راز چھپا ہوا تھا؟ جس کا سائنسدانوں نے کھوج لگا لیا، نقشے میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)انٹارکٹیکا ایسا براعظم ہے جسے اسرار سے بھرپور کہا جائے تو کم نہیں ہوگا کیونکہ وہاں ایسے قدرتی عجوبے موجود ہیں جو دہائیوں سے سائنسدانوں کے لیے الجھن کا باعث بنے ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق بظاہر یہ برفانی براعظم میں اوپر سے بہت سپاٹ لگتا ہے جس میں ہر سو برف ہی برف نظر آتی ہے مگر اب سائنسدانوں نے ایسی دریافت کی ہے جس کا علم کروڑوں سال میں پہلی بار ہوا ہے۔

درحقیقت انٹارکٹیکا کی اربوں ٹن برف کے نیچے دنیا کی سب سے گہرائی والی زمین کو دریافت کیا گیا ہے۔یہ منجمد براعظم اپنے نیچے ایک تاریخی براعظم کو چھپائے ہوئے ہے جسے ناسا کے ایک نقشے میں دکھایا گیا، جس سے مستقبل میں انٹار کٹیکا میں برف کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ ان خطوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں گرم موسم کے نتیجے میں برف پگھلنے کا امکان زیادہ ہوگا۔اس نقشے کو بیڈ مشین انٹارکٹیکا کا نام دیا گیا ہے جس میں اس براعظم کی چھپی ہوئی تمام تر تفصیلات کو دکھایا گیا ہے۔کیلیفورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور نقشے کو تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ میتھیو مارلیگم نے بتایا کہ بیڈ مشین کو انٹارکٹیکا کے مخصوص حصوں میں زوم کرکے ہم اہم معلومات دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس نقشے کو جریدے جنرل نیچر جیو سائنسز میں شائع کیا گیا اور برفانی براعظم میں چھپے جغرافیائی پہلو ؤں کو دریافت کیا گیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ برف کے بہاؤ کی ساخت کیا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ چھپے ہوئے پہلو موسمیاتی تبدیلی پر گلیشیئر کے ردعمل پر اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔انٹار کٹیکا میں برف کے بہاؤ سے آگاہی میں جاننا اتنا ہی اہم ہے جتنا زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ، کیونکہ اگر اس براعظم کی تمام برف پگھل جائے تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں 200 فٹ تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ایسا جلد ہونے کا امکان تو نہیں مگر اس براعظم کا معمولی حصہ بھی پگھل گیا تو بھی اس کے دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔اس براعظم میں دنیا کی گہری ترین کھائی کی دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کتنی مقدار میں برف اس خطے سے گزرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…