جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں ؟ ٹائروں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یا آپ جانتے ہیں کہ گاڑیوں کے ٹائر کی بھی مدتِ استعمال ہوتی ہے، یعنی ایک مخصوص تاریخ کے بعد ٹائروں کو استعمال کرنا خطرے سے بھرپور ہوتا ہے۔ گاڑیوں کے ٹائر بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ ٹائر پر اس کی مینوفیکچرنگ کا مہینہ

اور سال ایک مخصوص انداز میں درج کریں تاکہ کوئی  بھی شخص اسے باآسانی سمجھ کر بروقت اپنے ٹائر تبدیل کرسکے۔ صارفین یہ بات یاد رکھیں کہ مینوفیکچرنگ کی تاریخ کے بعد سے کسی بھی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔ اب آپ سوچیں گے کہ ہم ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟۔ یہ تاریخ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کی صورت میں لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر واضح کرکے لکھے جاتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ کچھ کمپنیاں اس تاریخ کو مزید نمایاں کرنے کے لیے چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*)  بهی بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر‌ اگر یہ چار ہندسے1216 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال2016 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (اپریل کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد2020 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔ ٹائر خریدتے وقت یہ بھی خیال کرنا ضروری ہے کہ کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں لکھی جاتی، یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکھے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا، بلکہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اب جبکہ آپ جان چکے ہیں کہ کسی بھی گاڑی کے ٹائر کی مدت میعاد کس طرح دیکھی جاتی ہے تو ذرا زحمت کرکے اپنی گاڑی کے ٹائروں کی ایکسپائر ہونے کی تاریخ بھی دیکھ لیں ، یہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…