بدھ‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2025 

کیا آپ جانتے ہیں ؟ ٹائروں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے

datetime 11  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یا آپ جانتے ہیں کہ گاڑیوں کے ٹائر کی بھی مدتِ استعمال ہوتی ہے، یعنی ایک مخصوص تاریخ کے بعد ٹائروں کو استعمال کرنا خطرے سے بھرپور ہوتا ہے۔ گاڑیوں کے ٹائر بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ ٹائر پر اس کی مینوفیکچرنگ کا مہینہ

اور سال ایک مخصوص انداز میں درج کریں تاکہ کوئی  بھی شخص اسے باآسانی سمجھ کر بروقت اپنے ٹائر تبدیل کرسکے۔ صارفین یہ بات یاد رکھیں کہ مینوفیکچرنگ کی تاریخ کے بعد سے کسی بھی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔ اب آپ سوچیں گے کہ ہم ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟۔ یہ تاریخ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کی صورت میں لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر واضح کرکے لکھے جاتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ کچھ کمپنیاں اس تاریخ کو مزید نمایاں کرنے کے لیے چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*)  بهی بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر‌ اگر یہ چار ہندسے1216 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال2016 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (اپریل کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد2020 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔ ٹائر خریدتے وقت یہ بھی خیال کرنا ضروری ہے کہ کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں لکھی جاتی، یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکھے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا، بلکہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اب جبکہ آپ جان چکے ہیں کہ کسی بھی گاڑی کے ٹائر کی مدت میعاد کس طرح دیکھی جاتی ہے تو ذرا زحمت کرکے اپنی گاڑی کے ٹائروں کی ایکسپائر ہونے کی تاریخ بھی دیکھ لیں ، یہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

موضوعات:



کالم



بل فائیٹنگ


مجھے ایک بار سپین میں بل فائٹنگ دیکھنے کا اتفاق…

زلزلے کیوں آتے ہیں

جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…