منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

چپل کے ساتھ سیلفی لینے والے بچوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل اس میں ایسی کیاخاص بات ہے ؟ جانئے

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل کے دور میں سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز ہی صارفین کی خوشی کا باعث بنتے ہیں جب ان کی اپ لوڈ کی گئی کسی تصویر یا ویڈیو پر سینکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں لائکس اور کمنٹس آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال آج کل کے دور میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ دور بیٹھے لوگ تو پاس آ گئے ہیں لیکن پاس بیٹھے لوگوں کو اس سوشل میڈیا کی لت نے دور کر دیا ہے۔

لیکن کیا سوشل میڈیا پر لائکس اور کمنٹس دیکھ کر حقیقی خوشی حاصل ہو سکتی ہے؟ حال ہی میں پانچ معصوم بچوں کی چپل کے ساتھ سیلفی لینے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس نے سوشل میڈیا صارفین کے مابین ”حقیقی خوشی” کو لے کر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا۔ اس تصویر کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کو احساس ہو رہا ہے کہ حقیقی خوشی انسان کے اندر سے آتی ہے نہ کہ ظاہری چمک دھمک اور چیزوں سے۔سوشل میڈیا پر اس تصویر کو لے کر کئی تبصرے کیے گئے۔ ایک صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر یہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کو کوئی عنوان دیں۔جس پر ہر صارف نے اپنا اپنا عنوان شئیر کیا۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ میں نے تقریبا 136 ایسے افراد کو دیکھا ہے جنہوں نے اس تصویر کو شئیر کیا کیونکہ اس میں موجود بچوں کے چہروں پر ہنسی دیکھ کر ہم خود بھی مُسکرا اُٹھے۔لیکن دوسری طرف مجھ سمیت کچھ 136 افراد ایسے بھی ہیں جو یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم ان بچوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں۔ایک اور صارف نے لکھا کہ ان بچوں کے چہروں پر وہ مُسکراہٹ ہے جسے پیسوں سے نہیں خریدا جا سکتا۔ایک اور صارف نے لکھا کہ خوشی مائنڈ سیٹ کی بات ہے۔ایک صارف نے غریب افراد کو سراہتےہوئے کہا کہ بے شک غریب افراد کے پاس سب کچھ نہیں ہوتا لیکن پھر بھی غریب افراد کسی نہ کسی طرح خوش رہنے کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ایک صارف نے اس تصویر کو عنوان دیتے

ہوئے کہا کہ یہ تصویر ہمیں بتاتی ہے کہ خوشی ”مفت” میں حاصل کی جا سکتی ہے۔اس تصویر پر سوشل میڈیا صارفین نے تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہمیں ڈھونڈنے سے بھی خوشی نہ ملے تو ہمیں اپنے آس پاس کی چیزوں میں ہی خوشی حاصل کر لینی چاہئیے۔ ان بچوں کو

دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی اس حالت میں بھی خوش ہیں جبکہ آج کل کے دور میں ہم نے اپنی خوشی مادی چیزوں میں ڈھونڈیا شروع کر دی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا بندہ پریشان اور ڈپریشن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی خوشی ڈھونڈنے کی بجائے خود پیدا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…