بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

روس سے ملنے والی ایک خاتون کی کھوپڑی نے ساری دنیا کے ماہرینِ آثار قدیمہ کو چونکا دیا

datetime 4  فروری‬‮  2019 |

نزران (مانیٹرنگ ڈیسک )جنوبی روس کے علاقے سے ملنے والی ایک خاتون کی باقیات نے ساری دنیا کے ماہرینِ آثار قدیمہ کو چونکا دیا ہے، خاتون کی کھوپڑی فلموں میں دکھائے جانے والی خلائی مخلوق کی طرح ہے۔ تفصیلات کےمطابق یہ کھوپڑی جنوبی روس می رشین فیڈریشن کے زیر انتظام انگشتھیا کے نزران نامی علاقے سے ملی ہے۔ اس کے ساتھ دو ہزار کے لگ بھگ انسانوں اور کئی نسلوں کے جانوروں کی ہڈیاں بھی پائی گئی ہیں۔

انسانوں کے علاوہ جن جانوروں کو ہڈیاں ملی ہیں ان میں گھریلو اور وحشی دونوں طرح کے جانور شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ وہاں سے مختلف انواع کے مرتبان، زیورات، اور کانسی کے بنے ہوئے تیر ملے ہیں۔ اس آرکیالوجیکل سائٹ کا نام گمورزیاوسکی ہے۔ رواں ہفتے ملنے والی یہ نسوانی کھوپڑی چار سے چھ صدیاں قدیم ہے اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس عورت کے سر اور گردن کو ارادی طور پر اس شکل میں ڈھالا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سروں اور گردن کی ہیت تبدیل کرنے کی روایت دنیا کے کئی خطوں میں قدیم زمانے میں موجود تھی ، آج بھی کچھ علاقوں میں یہ روایات زندہ ہے ، پاکستان میں’دولے شاہ کے چوہوں ‘کے نام سے جانے جانے والے چھوٹے سر کے لوگ اس کی واضح مثال ہیں۔ تاہم روس سے ملنے والی خاتون کی کھوپڑی بڑی حد تک ہالی وڈ فلموں میں دکھائی جانے والی خلائی مخلوق سے مماثلت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر کی ساخت میں تبدیلی کا مقصد ماضی میں خاص معاشرتی رتبے حاصل کرنا تھا اور اس طرح کے کام معاشرے کے امراء طبقے میں انجام دیے جاتے تھے ۔ اس مقصد کے لیے نومولود کے سر کو عمر کے ابتدائی چند سال مختلف اقسام کے چھلوں اور مسلسل کی جانے والی بینڈیجز کے ذریعے مخصوص ساخت عطا کی جاتی تھی۔ الان، ہن اور سارمیشین قبیلوں کے آثار میں بھی ایسی ہی کھوپڑیاں مل چکی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سائنسدانوں نے بلغاریہ اور رومانیہ سے ملنے والی اسی نوعیت کی 15 سو سال قدیم کھوپڑیوں کا معمہ بھی حل کیا تھا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…