پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

تائیوان : ایک لفظ کی محبت میں گرفتار قوم

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

تائیوان(مانیٹرنگ ڈیسک) زبان سے ادا ہونے والے الفاظ صرف صوتی اثر نہیں رکھتے بلکہ ان کی ادائیگی کے پیچھے پوری ایک ثقافت چھپی ہوتی ہے جو لفظ بولنے والے کے مزاج کا پتا دیتی ہے۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے معافی، یہ لفظ کسی بھی زبان میں، کسی بھی موقع پر ادا کیا جائے اس کا اثر ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ تائیوان ایسا ملک ہے جہاں ایک لفظ ‘بو ہاؤ ای سو’ تقریباً ہر موقع پر مختلف تاثرات

لیکن ایک معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بو ہاؤ ای سو وہ لفظ ہے جسے ادا کرتے ہوئے تائیوان میں خوش اخلاقی کے دروازے وا (کُھل) ہو جاتے ہیں۔ بو ہاؤ ای سو لفظ چار حروف پر مشتمل ہے جس کے لغوی معنی بُرا احساس اور بُرا مطلب کے ہیں لیکن تائیوان میں یہ لفظ ہر قسم کی صورت حال میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ویٹر کو بلانے سے لے کر اپنے باس سے معافی مانگنے تک، یہاں تک کہ محبت کے اظہار تک یہ لفظ تواتر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ نیویارک کی ایک یونی ورسٹی کے چینی پروفیسر چیا جو چینگ کے مطابق تائیوان میں ہم بو ہاؤ ای سو ہر وقت استعمال کرتے ہیں کیونکہ تائیوان شائستہ گفتگو کی ثقافت والا ملک ہے، ہم اس کا استعمال کسی کو ٹوکتے ہوئے یا گفتگو کے آغاز میں کرتے ہیں۔ نیشنل تائیوان یونی ورسٹی میں چینی زبان کے استاد اویو یانگ کے مطابق بو ہاؤ ای سو اتنی تیزی سے ادا ہوتا ہے کہ کان میں صرف ایک غیر واضح آواز سنائی دیتی ہے۔ لفظ بو ہاؤ ای سو کے معنی بیان کرنا اتنا آسان نہیں ہے، انگریزی کا لفظ سوری اتنا جامع نہیں ہے جتنا یہ لفظ ہے۔ تائی پی میں سب وے میں سفر کرتے ہوئے آپ کو یہ لفظ باقاعدہ ایک کورس میں سنائی دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے، مسافر ایک دوسرے سے احترام کا اظہار کرتے ہوئے، بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے یہ لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ آپ تائیوان کے کسی اسکول کے کلاس روم میں داخل ہو جائیں، طالب علم کے ہر سوال کا آغاز اور اختتام بو ہاؤ ای سو سے ہوتا ہے،   یہاں تک کہ گفتگو کے دوران تشکر کے اظہار کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ تائیوان میں کسی مقامی شخص کی ای میل کھول لیجیے، تقریبا ہر ای میل شروع ہی بو ہاؤ ای سو سے ہو گی، جس کا مقصد یہ ہو گا کہ میں آپ کو تکلیف دینے پر معذرت خواہ ہوں۔ یہاں تک کہ لوگ تحفہ ملنے پر بھی یہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ غیر مقامی جب بھی تائیوان آئیں گے تو انھیں یہ محسوس ہو گا کہ یہ قوم اجتماعی طور پر اس لفظ کی محبت میں گرفتار ہے۔ اس لفظ کا بہت زیادہ استعمال یہاں کے لوگوں کی نرم خوئی اور شرمیلے پن کی خبر بھی دیتا ہے۔ انٹر نیشنل ایکسپاٹ انڈیکس کے مطابق تائیوان کا شمار دنیا کے دوستانہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…