پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا دوسرا ناپسندیدہ پاسپورٹ قرار

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پولیو کی منتقلی کو مکمل روکنے میں بھی ناکام رہا، دنیا بھر میں پاکستان تپ دق کی شرح میں سرفہرست جبکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلا و میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر رہا۔ 2017 کی مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراوں اور ٹرانس جینڈرز کی علیحدہ کیٹیگری شامل کی گئی۔ پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کے حوالے سے دوسرا ناپسندیدہ ترین پاسپورٹ رہا۔

2017 میں انسانی حقوق کی صورتحال کے عنوان سے جاری رپورٹ کو معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر سے منسوب کیا گیا جو رواں برس 11 فروری کو انتقال کرگئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دہشتگردی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی آئی لیکن مسیحیوں، احمدیوں، ہزارہ، ہندووں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کو حملوں کا سامنا رہا، خصوصاً توہین مذہب کے کیسز زیادہ سامنے آئے۔ عدالتوں میں 3 لاکھ 33 ہزار 103 کیسز زیرسماعت رہے جبکہ 63 مجرموں کو پھانسی لگائی گئی۔ انکوائری کمیٹی کو جبری گمشدگی کے 868 کیس موصول ہوئے اور 555 کیس نمٹائے گئے۔ خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور پہلے 10 ماہ میں 5660 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق نومبر 2017 تک پاکستانی جیلوں میں مجموعی طور پر 82 ہزار 591 قیدی تھے ، جن میں خواتین قیدیوں کی کل تعداد 1442 تھی۔ جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا۔ صحت و تعلیم کے شعبے میں بھی صورتحال تشویش ناک رہی۔ دنیا بھر میں پاکستان تپ دق کی شرح میں سرفہرست جبکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاو میں دوسرے نمبر پر رہا۔ تھیلیسیمیا اور ایڈز کے پھیلاو میں اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان پولیو کی منتقلی کو مکمل روکنے میں بھی ناکام رہا۔ 56 لاکھ بچے پرائمری اور 55 لاکھ سیکنڈری اسکولوں سے باہر ہونے سے دنیا بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ رہی۔ پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کے حوالے سے دوسرا ناپسندیدہ ترین پاسپورٹ رہا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں پانی کے استعمال میں چوتھے نمبر پر رہا، صرف 36 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے ، 2025 تک پانی کے مکمل خاتمے کے خطرے کے باوجود پالیسی سازی اور جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی اوسط شرح عالمی ادارہ صحت کی طے کردہ حدود سے 4 گنا زیادہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہے جبکہ 10 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین یہاں آباد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…